کراچی وزیرا علیٰ سندھ کے احکامات ہوا میں اڑادیئے گئے، گٹکا، مین پوری کھلے عام فروخت
کنو نشن آن ٹو بیکو کنٹرول ( سی ٹی سی) کے ایگزیکٹوڈائریکٹر میر ذولفقار
علی کا کہنا ہے کہ گٹکا ،مین پوری اور شیشے پر وزیر اعلیٰ سندھ نے اکتوبر
2016میں پابندی لگا ئی تھی جس پر شروع میں عمل درآمد بھی ہوا تھا تاہم
دوبارہ یہ چیزیں شہر میں سر عام فروخت ہونا شروع ہوگئی ہیں۔
کراچی پر یس کلب میں پر یس کانفرنس سے خطاب کر تےہو ئےکنو نشن آن ٹو بیکو کنٹرول ( سی ٹی سی) کے ایگزیکٹوڈائریکٹر میر ذولفقار علی کا کہنا
تھا کہ تمباکو نوشی پر پابندی کے اقدام کو شہریوں نے بھی سراہا تھا اور
سندھ کی سول سوسائٹی نے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کیا تھا جبکہ وزیر صحت کی
جانب سے بھی آئی جی سندھ کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اس فیصلے پر فوری عمل
درآمد یقینی بنائیں۔ اس قانون پر عمل درآمد ایک سولیہ نشان بن گیا ہے۔ شہر
کے کئی علاقوں میں دکانداروں نے ان مضر صحت اشیاء کو ابھی بھی فروخت کرنے
کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔ گٹکا ،مین پوری اور تمباکو نوشی پر پابندی عوام
کی بھلائی کیلئے تھی،تمباکو نوشی سے نوجوان نسل بیماریوں میں مبتلا ہوتی
ہے۔
کنو نشن آن ٹو بیکو کنٹرول ( سی ٹی سی) کے ایگزیکٹوڈائریکٹر نے وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ گٹکا ،مین پوری اور تمباکو نوشی کی
پابندی پر فوری عمل درآمدکروایا جائے اور اس کے اشتہارات اور مانیٹرنگ
کرنے پر بھی پابندی لگائی جائے۔