کراچی، انسانوں کو لاپتہ رکھنا آئین کی خلاف ورزی اور عدلیہ کی توہین ہے ، علامہ اورنگزیب فاروقی
لاپتہ رہنماؤں اور کارکنان کی بازیابی کیلئے اہل سنت والجماعت کی احتجاجی
تحریک کے دوسر ے مرحلے میں ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں سنی ایکشن کمیٹی کے تحت
مظاہرے کئے گئے۔ کراچی میں پریس کلب پر بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں
بڑی تعداد میں اہل سنت والجماعت اور سنی ایکشن کمیٹی کے کارکنان نے شرکت
کی۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی صدر سنی ایکشن کمیٹی پاکستان علامہ
اورنگزیب فاروقی ، علامہ ربنوازحنفی ، علامہ تاج محمد حنفی ،سید محی الدین
شاہ ، مولانا خالد محمود، مولانا عادل عمر ، امیر فضل خالق ، کامران معاویہ
اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پرامن احتجاجی تحریک لاپتہ ہونے
والے رہنماؤ ں اور کارکنان کی بازیابی کیلئے ہے ، ہمارا سوال ہے کہ لاپتہ
اہل سنت رہنماء اور کارکنان کہاں ہیں ، ان کا جرم کیا ہے ، ہمارے ساتھ رواں
سلوک غیر انسانی ، غیرآئینی ، جبری اور انسانیت کی توہین ہے۔
اہل اقتدار اور سیاست دانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر پانامہ
لیکس کی تحقیقات کیلئے نواز شریف کے بیٹے حسن ،حسین نواز کو لاپتہ کردیا
جائے یا آصف زرداری کے بیٹے بلاول بھٹو کو کرپشن کی تحقیقات کیلئے لاپتہ
کردیا جائے توکیا وہ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے اور آئین کی خلاف ورزی کرنے کا
شور نہیں مچائیں گے ، کیا اہل سنت رہنماؤں اورکارکنان کو لاپتہ غیر آئینی
عمل نہیں ہے ،حکمران بتائیں کیا وہ اہل سنت کو لاپتہ کرکے غیر آئینی عمل کے
مرتکب نہیں ہورہے ،جو زیادتیاں ہمارے ساتھ ہو رہی ہیں وہ کل ان کیساتھ بھی
ہوسکتی ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ہم عدلیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ چیف جسٹس آف پاکستان لاپتہ
لوگوں کی جبری گمشدگی کا نوٹس لیں ، مظلوموں کی نگاہیں انصاف کی فراہمی
کیلئے عدلیہ کی طرف لگی ہوئی ہیں ، انصاف کی کرسی پر براجمان چیف جسٹس
سوموٹو ایکشن لیتے ہوئے ماؤں کے لاپتہ جگر گوشوں کی بازیابی کا حکم دیں،
لوگوں کو لاپتہ رکھنا عدلیہ کی توہین ہے اور عدلیہ کی توہین جرم ہے ، عدلیہ
اورآئین کی خلاف ورزی کرکے ملک میں امن قائم نہیں ہوسکتا ،آئین کی خلاف
ورزی کو روک کر پاکستان کے آئین کو محفوظ بنایا جائے ، ہم کسی مجرم کی پشت
پر نہیں مگرمظلوموں کیساتھ کھڑے ہیں ۔