پشاور،طلبا اور قبائلی عمائدین کا ایف سی آر کے قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
پشاور
میں قبائلی عمائدین اور طلباء ایف سی آ ر کے قانون کے خلاف ایک بار پھر
سڑکوں پر نکل آئےہیں۔ایف سی آر کے قانون کے خلاف پشاور پریس کلب کے باہر
احتجاجی مظاہرہ کیا گیا،مظاہرے میں قبائلی عمائدین کے ساتھ طلبا کی بڑی
تعداد نے شرکت کی۔
مظاہرین نے گو ایف سی آر گو کے نعرے لگاتے ہوئے حکومت سے اس کالے قانون کے خاتمہ کا مطالبہ کیاہے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ فاٹا کو ایف سی آر قانون کی نہیں بلکہ تعلیم،بجلی اور بہتر انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے ایک نوجوان کا
کہنا تھا کہ وفاق کے زیر انتظام ہونے کے باعث قبائلی عوام کو اپنے مطالبات
کے حصول اور حکام بالا تک آواز پہنچانے کے لئے پشاور کا رخ کرنا پڑتا ہے
لیکن گزشتہ کئی سالوں سے ایف سی آر سے نجات چاہنے والے قبائلی عوام کی کوئی
شنوائی نہیں ہو رہی ہے۔
مظاہرے میں شریک ایک نوجوان شخص کا کہنا تھا کہ ایف سی آر یعنی فرنٹیئر
کرائم ریگولیشن جسے انگریزوں نے 1873 میں نافذ کیا تھا جس کا مقصد جرائم
کی شرع کو قابو کرتے ہوئے سخت سزائیں دینا اور اس میں بنیادی انسانی حقوق
کا کوئی تعین نہیں ہے21ویں صدی میں بھی اس قانون کا نفاذ افسوسناک ہے۔