کراچی،انٹر نیشنل جی ٹیکس ایکسپو اختتام پزیر،صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ ناصر حسین شاہ کی شرکت
کراچی میں تین روزہ عالمی بی ٹوبی ٹیکسٹائل مشینر ی بر ینڈ ایکسپو اختتام
پذیر ہو گئی ۔اختتامی تقر یب کے مہمان خصوصی وزیر ٹرانسپورٹ سند ھ سید نا
صر حسین شاہ تھے ۔نمائش کےتین دنوں میں 18ملین ڈالرز کے کاروبا ری سودے ہو
ئے ۔
اختتامی تقر یب کے مہمان خصوصی وزیر ٹرانسپورٹ سند ھ سید نا صر حسین شاہ نے
نمائش کے مختلف ہا لز کا دورہ کیا اور ملکی وغیرملکی وفود سے ملاقاتیں کیں
۔
اس موقع پر اختتامی تقر یب کے مہمان خصوصی وزیر ٹرانسپورٹ سند ھ سید نا صر
حسین شاہ کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل کی صنعت کو نظرانداز کیا جارہا ہے، وفاق
توجہ دے، 2013 میں ایکسپورٹ 25 بلین ڈالرز تک تھی جو بڑھنے کے بجائے کم ہو
گئی ہے، سبسڈی دی جائے۔
وزیر ٹرانسپورٹ سند ھ سید نا صر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ ایف بی آر
ایکسپورٹرز کے ڈھائی سو ارب کے ریفنڈز فوری ادا کرے، ہمارے ہاں بجلی بہت
مہنگی ہے جس کی وجہ سے دوسرے ممالک کا مقابلہ نہیں کر پارہے۔ سندھ اسمبلی
میں ہونے والے واقعے کا پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سخت نوٹس لیا
ہے اور متعلقہ ایم پی اے کو شوکاز نوٹس دے دیا گیا ہے۔
وزیر ٹرانسپورٹ سند ھ سید نا صر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ خاتون ایم پی اے
بھی بہت قابل احترام ہیں، ایسے واقعات نہیں ہونے چائیں، میئر کراچی اچھے
انسان ہیں، حکومت سندھ انہیں اور ان کی ٹیم کو سپورٹ کرتی ہے۔میئر کو کافی
اختیارات حاصل ہیں، اس پر تو کام کریں، یہ خیال غلط ہے کہ ہم تعاون۔نہیں کر
رہے۔
وزیر ٹرانسپورٹ سند ھ سید نا صر حسین شاہ کا مزیدکہنا تھا کہ اختیارات میں
توازن ہونا چاہیے، زیادہ اختیارات ملنے سے کے ایم سی سمیت سارے اداروں میں
بے تحاشا بھرتیاں کر دی گئیں۔ حکومت سندھ ہر ماہ کے ایم سی کو 50 کروڑ دیتی
ہے،شہر میں سارے ترقیاتی کام ہم کرارہے ہیں، ان کے پاس تو صرف صفائی اور
پانی کی ذمہ داری ہے۔