Feb 04, 2017 01:36 pm
views : 937
Location : Punjab Judicial Academy
Lahore- Chief Justice of Pakistan addresses to Lawyers
لاہور، کوئی بھی جج اپنی مرضی اورمنشاکیمطابق فیصلہ نہیں کرسکتا، چیف جسٹس پاکستان
چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ کوئی بھی جج اپنی
مرضی اورمنشاکیمطابق فیصلہ نہیں کرسکتا اور آئین ججز کو غیر جانبدار رہنے
کا پابند بناتا ہے۔
پنجاب جوڈیشل اکیڈمی لاہور میں خطاب کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ
انصاف ہر شہری کا بنیادی حق ہے، انسانی وجود اورانصاف کی طلب کو جدا نہیں
کیا جاسکتا، انسان اورانصاف لازم وملزوم ہیں، وقت کے ساتھ معاشرے میں انصاف
کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، جج پرمعاشرے میں انصاف کی فراہمی کی ذمہ داری ہے
اور ہر جج کے پاس انصاف کرنے کی طاقت ایک جیسی ہے۔
جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ معاشرے نے ججز پر انصاف کی بھاری ذمہ داری
عائد کی ہے۔ آئین ججز کوغیرجانبداررہنے کا پابند بناتا ہے، انہیں یہ حق
حاصل نہیں کہ وہ صوابدید پر فیصلے کرے، کوئی بھی جج اپنی مرضی
اورمنشاکیمطابق فیصلہ نہیں کرسکتا اورجج وہی ہوتا ہے جو قانون کے مطابق
فیصلہ کرے، اورقانون کے مطابق فیصلہ کرنے کیلئے قانون کوجاننا بہت ضروری
ہے۔
چیف جسٹس ثاقب نثارکا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اور ڈسٹرکٹ جج میں کبھی فرق
نہیں کیا، میرا ہر ایک لفظ میرے دل کی سچائی ہے، میری زندگی کا محور عدلیہ
اور بار ہی رہا ہے، معاشرے میں کسی نہ کسی شکل میں انسانی حقوق کی خلاف
ورزیاں ہوتی ہیں اورجج وہی ہوتا ہے جورولزکے مطابق فیصلہ کرے۔