لاہور ،معروف اردو افسانہ نگار بانو قدسیہ کاسفرآخرت، مرحوم شوہر اشفاق احمد کے پہلو میں سپرد خاک
لاہور میں اردو کے ادبی حلقوں کی بانو آپا منوں مٹی تلے جا بسیں۔ ان کی
نماز جنازہ ماڈل ٹاؤن ڈی بلاک کی مسجد میں ادا کی گئی۔ بانو قدسیہ کو ان
کے مرحوم شوہر اشفاق احمد کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔ جنازے میں شریک ہر
شخص غمگین تھا اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔
جنازے میں بانو آپا کے رشتہ داروں، فنکاروں، علمی ادبی حلقوں کے معروف
دانشوروں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے متعلق افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی
اور بانو قدسیہ کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ بانو آپا نے سوگواران
میں 3 بیٹے چھوڑے ہیں۔
اردو افسانے، ناول، ڈرامے اور سوانح کے قاری ہمیشہ ان کی کمی محسوس کرتے
رہیں گے۔ تاہم دنیا میں جب تک اردو پڑھنے والے موجود رہیں گے، بانو آپا کی
28 نابغۂ روزگار کتب اپنے قارئین کو نئے عزم، نئی راہیں، نئی منزلیں،
جذبہ اور روشنی دکھاتی رہیں گی۔