کراچی، ہزارہ گوٹھ کے مکینوں کا گندگی کے ڈھیر اور صفائی ستھرائی نہ ہونے کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ
ہزارہ گوٹھ کے مکینوں نے علاقے میں گندگی کے ڈھیر اور صفائی ستھرائی نہ
ہونے کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ سفاری پارک کے سامنے ہونے والے
احتجاجی مظاہرے میں خواتین اور بچے بھی شریک تھے۔ احتجاجی مظاہرین نے اپنے
ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔
مظاہرین کی جانب سے نعرے بازی کا سلسلہ بھی مسلسل جاری رہا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہم کس کے پاس اپنی فریاد لے کر جائیں۔ ہمارے علاقے
کیلئے منظور ہونے والے فنڈز متعلقہ حکام جیبوں میں ڈال لیتے ہیں۔ خدارا
غریبوں پر رحم کیا جائے، بزرگوں پر رحم کیا جائے اور اگر رحم نہیں کرسکتے
تو ہمیں ایک ہی مرتبہ جان سے ماردیا جائے۔ہمیں بھی جینے کیلئے بنیادی
سہولیات ملنی چاہئیں۔
ایک شہری کا کہنا تھا کہ ہزارہ گوٹھ میں سال 2002ء4 میں سڑک کا کام ہوا
تھا اور اس کے بعد سے لے کر آج تک یہاں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا۔ سیوریج
کا نظام تباہ ہوگیا ہے۔ پرائمری اسکولوں کی دیواریں گری ہوئی ہیں۔ کراچی کا
میئر صرف ایک ہی علاقے میں گھوم رہا ہے اور وزیرا علیٰ سندھ کو صرف ڈیفنس
اور کلفٹن دکھائی دیتا ہے۔ ووٹ اور ٹیکس ہم دیتے ہیں اور یہ اپنے علاقو ں
میں صفائی ستھرائی کا خیال رکھتے ہیں۔ بیماروں اور میتوں کو ہسپتال یا
قبرستان تک نہیں لے کر جایا جاسکتا کیونکہ سڑکوں کی عدم مرمت کی وجہ سے
ایمبولینسیں تک ہمارے علاقے میں نہیں آتی۔ ہم مجبو رہو کر پرامن احتجاج
کررہے ہیں۔
ایک خاتون کا کہنا تھا کہ ہزارہ گوٹھ میں گٹر ابر رہے ہیں۔ ہمیں پیسے نہیں
عزت چاہیے۔ ہمیں عزت سے رہنا ہے۔ اگر کوئی مر بھی جائے تو ایمبولینس تک
ہمارے علاقے میں نہیں آتی۔ جب انتخابات کا وقت ہوتا ہے تو بڑے بڑے لوگ آکر
منتیں کرتے ہیں اور ووٹ لینے کیلئے ہمارے پاؤں تک پڑجاتے ہیں۔
ایک اور خاتون کا کہنا تھا کہ ہمیں کچھ نہیں چاہیے ہماری سڑکیں بنائی جائیں اور ہمیں پینے کا صاف پانی مہیا کیا جائے۔
ایک نوجوان شہری کا کہنا تھا کہ ووٹ لینے کیلئے حکمران اللہ اور رسول کا
واسطہ دے کر ووٹ لیتے ہیں۔ آج میں انہیں اللہ اور رسول کا واسطہ دیتا ہوں
کہ آئیں ہمارے علاقے میں نالے صاف کروائیں ، گٹر کا پانی ہماری پینے کے
پانی کی لائنوں میں مل رہا ہے جس کی وجہ سے بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔
مظاہرین نے وزیرا علیٰ سندھ اور وزیر اعظم پاکستان سے اپیل کی ہے کہ علاقے میں بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔