Feb 09, 2017 05:49 pm
views : 875
Location : Domestic Place
Islamabad- President Mamnoon Hussain addresses
اسلام آباد، پرآشوب دور میں انتہا پسندانہ خیالات کیلئے جوابی قومی بیانیے
کی تیاری میں ادیبوں اور دانشوروں کا کردار نہایت اہم ہے ،صدر مملکت ممنون
حسین
صدر مملکت ممنون حسین کا کہنا تھا کہ موجودہ پرآشوب دور میں انتہا پسندانہ
خیالات کیلئے جوابی قومی بیانیے کی تیاری میں ادیبوں اور دانشوروں کا کردار
نہایت اہم ہے۔
اسلام آباد میں معروف ادیب ودانشور عطاء الحق قاسمی کی کتاب کی تقریب
رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ممنون حسین کا مزید کہنا تھا کہ
موجودہ دور صرف پاکستان ہی کیلئے نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کیلئے مشکل
اور پریشان کن ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں سے جمے جمائے معاشروں میں غیر معمولی
شکست وریخت ہوئی ہے اور لوگوں کا جن نظریات پر صدیوں سے یقین تھا وقت کی
بساط پر انہیں شکست ہورہی ہے۔ پاکستانی معاشرہ بھی اس نظریاتی افرا وتفریق
سے نہیں بچ سکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے نوجوانوں کی بڑی تعداد راستے کی
تلاش میں بھٹک رہی ہے۔ ہماری نئی نسل اور مختلف طبقہ ہائے فکر کی یہی
پریشانی تھی جس کے نتیجے میں انتہا پسندی کو فروغ ملا اور ہمارے بچے اس کا
شکار ہوتے چلے گئے۔
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتوں کی کشمکش کے نتیجے میں دنیا میں
پہلی مرتبہ ایسا نہیں ہوا بلکہ جب بھی اس طرح کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو
معاشرے کے سوچنے سمجھنے والے طبقات متحرک ہو کر قوم کی درست سمت میں
رہنمائی کرتے ہیں۔
صد رممنون حسین کا کہنا تھا کہ مجھے ادیبوں اور شاعروں کے معاملات سے بھی
دلچسپی ہے، اس لئے میں قومی امور کے بارے میں ان کے کردار اور سرگرمیوں سے
باخبر رہنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میرے لئے یہ بات باعث حیرت ہے کہ ہمارے بعض
ادیبوں کا رویہ قومی مسائل سے لاتعلقی کا ہے حالانکہ عالمی ادب میں اس
رجحان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ قومی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو سرسید احمد خان سے لے
کر علامہ اقبال اور مولانا حسرت موہانی سے لے کر فیض اور جالب تک عظیم
شاعروں اور ادیبوں کی ایک کہکشاں نظر آتی ہے جنہوں نے ہر قومی تحریک اور
مشکل موقع پر اپنی ذمہ داریاں پوری کیں لیکن گزشتہ چند دہائیوں سے پاکستان
میں صورتحال نسبتاً مختلف ہے۔ میں توقع رکھتا ہوں کہ ہمارے ادبی محقق اور
نقاد اس معاملے پر غور کرکے اپنی برادری کی ضرور رہنمائی کریں گے۔
اس سلسلے میں جب میں عطاء الحق قاسمی کے کردار کو دیکھتا ہوں تو خوشی ہوتی
ہے کہ لڑکپن سے لے کر اس عمر تک قومی معاملات میں ان کا کردار قابل رشک ہے۔
میں یہ کہتے ہوئے خوشی محسوس کرتا ہوں کہ ان کا تعلق ادیبوں کے اس قبیلے
سے ہے جن کا ہاتھ ہمیشہ قوم کی نبس پر رہا ہے اور اس کی پاداش میں اگر
انہیں کوئی قربانی بھی دینا پڑی تو انہوں نے اس سے بھی گریز نہیں کیا۔