لاہور،طلباء یونینز میں انتخابات کیلئے مختلف طلباء تنظیموں کے تحت زبردست احتجاجی مظاہرہ
طلباء یونینز میں انتخابات کیلئے مختلف طلباء تنظیموں کے تحت زبردست
احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ پی ایم جی چوک پر ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں
ہزاروں طلباء نے شرکت کی۔ احتجاجی طلباء کے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز
تھے جبکہ اس موقع پر مظاہرین کی جانب سے نعرے بازی کا سلسلہ بھی مسلسل
جاری رہا۔
مظاہرے میں شریک ایک طالبعلم محمد ایاز کا کہنا تھا کہ ایک آمر نے 9 فروری
1984ء کو طلباء یونین پرپابندی عائد کی تھی۔ ہمارا جمہوری چیمپئنز سے
مطالبہ ہے کہ طلباء یونین بحال کی جائے۔ ہمیں ہمارا جمہوری حق واپس کیا
جائے۔ اگر ہمیں ہمارا جمہوری حق واپس نہیں دیا جائے گا تو ہم کراچی سے لے
کر اسلام آباد تک کے طلباء کو متحد کریں گے اور شہر اقتدار کا گھیراؤ کریں
گے۔ جب تک طلباء یونین کو بحال نہیں کیا جائے گا ہم محاصرہ نہیں چھوڑیں گے۔
طلباء یونین کی بحالی کیلئے طلباء برادری کو لے کر تحریک چلانے جارہے ہیں۔
یہ مظاہرہ ایک ٹوکن ہے۔ اب طلباء اپنا حق لے کر رہیں گے۔
مظاہرے کی قیادت کرنے والے اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کے ناظم کا کہنا تھا کہ
طلبہ یونین کی بحالی کے حوالے سے ہم نے سینیٹرز سے ملاقاتیں کی ہیں اور
طلبہ یونین کی بحالی کے حوالے سے ایوان بالا میں بحث بھی ہوئی ہے اور ہمیں
یقین دلایا گیا ہے کہ دو ماہ کے اندر ایک بل ترتیب دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ تعلیم صوبائی مسئلہ ہے۔ پنجاب میں ن لیگ کو سندھ میں
پیپلز پارٹی کو اور کے پی کے میں پی ٹی آئی کو چاہیے کہ انتخابات کروائیں۔
2008ء میں فلور آف دی ہاؤس میں یوسف رضا گیلانی نے جب یہ اعلان کیا کہ طلبہ
یونین پر پابندی نہیں ہے تو اب صرف انتخابات باقی ہیں۔ طلباء ایک طاقت
ہیں۔ حکمران ڈرتے ہیں کہ طلباء اقتدار کو ہلاکر رکھ دیں گے۔ انتخابات نہ
کرانا طلباء کا راستہ روکنے کی ایک سازش ہے، سب سے باشعور طبقہ طالبعلم
ہوتا ہے۔ آج کی سیاستدانوں کی طلباء تنظیموں نے پرورش کی ہے۔ سیاسی پرورش
تعلیمی اداروں میں کی جائے۔ طلباء کی تاریخ موجود ہے ،یہ خاموشی سے نہیں
بیٹھیں گے۔