کراچی، کیا اورنگی ٹاؤن کے رہائشی طالبان ہیں؟فیصل سبزواری
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنماء سید فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ پولیس
کی جانب سے تعاون نہ کرنے اور نوٹس نہ لئے جانے پر لوگوں نے اپنی آواز
سنانے کیلئے احتجاج کیا لیکن احتجاج کے جواب میں نہتے شہریوں پر پولیس کی
جانب سے اندھا دھند گولیاں چلائی گئیں۔ یہ پولیس نے اورنگی ٹاؤن کے
رہائشیوں سے کس بات کی دشمنی نکالی ہے۔
اورنگی ٹاؤن میں ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل
سبزواری کا مزید کہنا تھا کہ ابھی میں ایک پچپن ساٹھ سال کے جنازے سے آرہا
ہوں۔ جو نہ تو پولیس پر راکٹ لانچر برسارہے تھے اور نہ تو ان کے پاس بندوق
تھی۔ وہ اپنی دکان کے سامنے کھڑے تھے اور محض کھڑے ہوئے لوگوں پر گولی
چلائی گئی اور ہمیں اطلاع ملی کہ پولیس افسر یہ حکم دے رہے ہیں کہ مظاہرین
کے سروں پر گولیاں مارو۔ کیا اورنگی ٹاؤن کے رہائشی طالبان ہیں؟۔ یہ بم
دھماکے کرنے والے لوگ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے اورنگی ٹاؤن کو تین سال میں نوچا گیا ہے ۔ لوگوں کو
باالخصوص ایم کیو ایم سے تعلق کے شبے گرفتار کیا گیا اور پچیس ہزار، پچاس
ہزار اور ایک لاکھ روپے رشوت لے کر چھوڑا گیا اور رشوت نہ دینے والوں پر
اتنا تشدد کیا گیا کہ وہ زیرحراست جاں بحق ہوگئے۔ ان کو دہشت گرد قرار دیا
گیا۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔
فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ لوگ ڈکیتیوں کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ پولیس
کے افسران کا رویہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ ان رہائشیوں اور یہاں کے عوامی
نمائندوں کو بلاتے ،ان کے ساتھ بات کرتے تاکہ ان کی شنوائی ہوتی۔