Mar 18, 2017 06:08 pm
views : 652
Location : Different Areas
Karachi- Possible Ban On Social Media
فیس بک پر ممکنہ پابندی پر شہری حلقے تشویش میں مبتلا
سوشل میڈیا پر ممکنہ پابندی کے حوالے سے جاری چہ مگوئیوں نے شہریوں کو
تشویش میں مبتلاکردیا ہے ، کسی کو رابطے ختم ہونے کی پریشانی ستانے لگی تو
کوئی بے روزگار ہونے کے خدشے کو جان سے لگائے بیٹھا ہے ۔ سوشل میڈیا موجودہ
دورمیں نا صرف معلومات کے تبادلوں میں اہم کردار اداکررہاہے بلکہ ان
خواتین کے لیے انتہائی آسان اور مفید روزگار کا ذریعہ بن چکا ہے جو گھروں
سے باہر نہیں نکل سکتیں۔ ایسے میں سوشل میڈیا پرپابندی پورے ملک میں ایک
طوفان برپا کرسکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کسی کے لیے بھی قابل
قبول نہیں ،لیکن ایک کتاب خراب ہوتو پوری لائبریری کو بند نہیں کیا جاسکتا
،بلکہ اس کتاب کو لائبریری سے نکال دیاجاتا ہے ،لیکن یہاں صورتحال کچھ
مختلف ہے جس پر شہری اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے پابندی کی مخالفت
کرتے نظرآرہے ہیں ۔
شہری شاہد رانااس بارے میں کہتے ہیں سوشل میڈیا موجودہ دور میں رابطے کا
اہم ذریعہ ہے ،ہماری ترقی بھی اسی سوشل میڈیا سے ہی منسلک ہے ،اور ا س سے
شاید کسی کو انکار ہو،تاہم سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی شدید مخالفت
کرتا ہوں اورحکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اس ضمن میں کوئی ایسا قانون
بنائے جس سے اس طرح کے واقعات کی روک تھام ہوسکے۔ ساتھ ساتھ میں یہ بھی
کہناچاہوں گا کہ سوشل میڈیا چلانے والے اداروں کو ان لوگوں پر نظر رکھنی
چاہے جو نئی نئی آئی ڈیز بناکر اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں۔ہمارا مقصد کسی
مذہب کے ماننے والوں کی دل آزاری ہرگز نہیں مگر ان لوگوں کے خلاف سخت
کارروائی ہونی چاہیے جو کسی مذہب کی توہین کرتے ہیں۔آخر میں صرف اتنا ہی
کہنا چاہو ں گا سوشل میڈیا رابطوں کا اہم ذریعہ ہے اسے بند نہیں ہونا
چاہیے۔
کترینہ حسین کہتی ہیں حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پر ممکنہ پابندی کا
فیصلہ انتہائی غلط ہوگا،کیوں کہ سوشل میڈیاپر اب صرف سوشل کام نہیں
ہوتابلکہ اب اس سے ملک میں ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہوچکا ہے ،کراچی
میں کئی ایسی خواتین ہیں جو گھرپر رہ کر بزنس چلا رہی ہیں۔اس کے علاوہ
بیرون ملک رہنے والے پاکستانی اپنی فیملی اور دوستوں سے رابطوں کے لیے فیس
بک ،واٹس اپ اور اس طرح کے دیگر سوشل ذرائع ہی استعمال کرتے ہیں ۔اکیسویں
صدی میں سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرنے والی بات میری سمجھ میں نہیں آرہی ۔
البتہ جو توہین آمیز پوسٹیں ہیں انہیں ہٹایا جاسکتا ہے ان کے خلاف
کارروائی کی جاسکتی ہے اور ان پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے لیکن پورے سوشل
میڈیاپرپابندی کا فیصلہ غلط ہوگا۔
اقبال خان ممکنہ پابندی پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہتے ہیں سوشل میڈیا جہاں
رابطوں کا ایک اہم ذریعہ ہے وہیں معلومات کے تبادلے کا بھی اہم ذریعہ بن
چکا ہے۔ اچھی جگہ پر گندے لوگ آجاتے ہیں ، اس پر حکومت کو ضرور ایکشن لینا
چاہیے ،اور غیرقانونی کام کرنے والوں کو فوری گرفتار کرے۔اس کے ساتھ میں
حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ گستاخانہ پوسٹس شیئر کرنے والوں کے خلاف
سخت کارروائی کرے۔