Mar 24, 2017 01:38 pm
views : 772
Location : Sindh High Court
Karachi- Sindh High Court Census hearing
کراچی ،وفاقی حکومت کا مردم شماری کے طریقہ کار کو خفیہ رکھنا شکوک وشبہات پیداکررہاہے ،فاروق ایچ نائیک
پیپلزپارٹی کے رہنما فاروق ایچ نائیک نے سندھ ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے
بات چیت کرتے ہوئے کہا مردم شماری کے حوالے سے دائر درخواست پرآج سماعت
ہوئی ،جس میں ہم نے مردم شماری کے طریقہ کار کو چیلنج کیا ہے اور موقف
اپنایا ہے کہ وفاقی حکومت نے مردم شماری کے طریقہ کار کو انتہائی خفیہ رکھا
ہے جو شکوک وشبہات پیدا کررہا ہے،اس میں معلوم نہیں ہورہاکہ عملے نے ایک
گھرمیں کتنے فارم بھرے ہیں،کسی گھرکو انہوں نے فارم میں جگہ دی یا نہیں۔ان
تمام چیزوں کو وہ لوگ خفیہ رکھ کر اسلام آباد بھیج دیں گے۔جس سے کافی
پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ اگرکسی شخص کا فارم میں نام نہیں آیاتو وہ کم
از کم کاربن کاپی کے ذریعے اپنے اعتراضات داخل کرسکتا ہے۔لیکن یہاں معاملہ
الٹا چل رہاہے کسی کو اس بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔
فاروق ایچ نائیک نے مزید کہا کراچی سمیت پورے پاکستان میں غیرقانونی طورپر
لوگ یہاں مکین ہیں ،اور اس سے یہ معلوم نہیں ہورہاہے کہ آیا ان لوگوں کا
بھی اندراج ہورہاہے یا نہیں۔اگر مردم شماری میں ان لوگوں کو شامل کیاگیا تو
اس سے کئی بڑے مسائل سامنے آسکتے ہیں، جس میں وفاقی نوکریوں کا کوٹہ ،قومی
اور صوبائی اسمبلیوں کی نشست جیسے مسائل بھی شامل ہیں۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ
غیرقانونی طورپر مکین افراد کا الگ سے فارم بنایاجائے اورمردم شماری میں
انہیں شامل نہ کیا جائے۔ مردم شماری میں شفافیت لازمی ہے اس کے بغیر مردم
شماری میںآگے جاکر مسائل کا سامنا ہی کرنا ہوگا۔
پیپلزپارٹی رہنما کا کہنا تھا آج ججز صاحبان کی طرف سے ہمارے اعتراضات
پرایڈووکیٹ جنرل سمیت وفاقی حکومت کے تمام متعلقہ سیکریٹریز اورچیف سنسنز
کو 30مارچ کے لیے نوٹس جاری کردیے ہیں۔ہمارا موقف ہے کہ اس مسئلے کا جلد سے
جلد حل نکالا جائے ،تاکہ آگے آنے والی پریشانیوں سے بچا جاسکے۔