جدید ٹیکنالوجی نے انسان کو کتابوں سے دور کردیا
کتابیں ہر دور میں انسان کی بہترین دوست سمجھی جاتی رہیں ،آج کے جدید
دورمیں جہاں نت نئی ٹیکنالوجی نے انسان کو کتابوں سے دور کردیا ہے وہیں آج
بھی بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں ان قیمتی کتابوں سے محبت ہیں اور
کتابوں سے ان کی یہ دوستی انہیں کبھی تنہا نہیں رکھتی بلکہ ہمیشہ ان کے
ساتھ ہوتی ہے۔
جن کتابوں کو شیلف میں ہونا چاہیے وہ کتابیں صدر میں بند دکانوں کے آگے فٹ
پاتھ پر پڑی ہوئی ہیں جہاں وہ اپنے قدر داں کا انتظار کرتی نظرآتی ہیں۔ ہر
اتوار کو لگنے والی یہ کتاب بازار پرانی کتابوں کا مسکن بھی سمجھا جاتا ہے
۔جہاں طلبہ،پروفیسر،ڈاکٹر،انجینئر،وکیل،صحافی یا کسی بھی شعبہ ہائے زندگی
سے تعلق رکھنے والے افراد یہاں آکر اپنی علم کی پیاس بجھاتے نظرآتے ہیں ۔
برسوں سے جاری یہ سلسلہ آج بھی ویسے ہی چل رہاہے جیسے آج کوئی پہلا دن ہو۔
مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اب یہاں نہ تواتنے علم کے پیاسے نظرآتے ہیں اور
نہ ہی کوئی ان کتابوں کا قدرداں،جو ان کتابوں کو فٹ پاتھ سے اٹھا کر شیلف
تک پہنچادے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ انٹرنیٹ ہے جہاں دنیا کی تمام چیزیں سمو
دی گئیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ اب ان کے قدرداں سڑکوں کی خاک چھاننے کے بجائے
ایک بٹن دبانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
بازار میں اپنی پسند کی کتاب تلاش کرتے ہوئے ایک علم کے پیاسے شہری کا
کہنا تھا یہاں پر ہر موضوع سے متعلق کتابیں موجود ہیں جو انتہائی کم قیمت
پر دستیاب ہیں ،ہم جیسے لوگ جومطالعے کے شوقین اور جدید ٹیکنالوجی سے ناپید
ہوں ان کے لیے یہ جگہ انتہائی بہترین ہے ۔ مانتا ہوں کہ ٹیکنالوجی نے بہت
ترقی کرلی ہے اور اب لوگوں کا رحجان اس طرف کم ہوگیا لیکن پھر بھی یہ کہوں
گاکہ کتابوں کی اہمیت آج بھی اپنی جگہ اہم ہیں۔
اس موقع پرایک دکاندار نے بات چیت کرتے ہوئے کہا آج سے پانچ سے دس سال قبل
ہماراکاروبار عروج پر تھا مطالعے کے شوقین افراد یہاآتے تھے اور ہمارا
روزگار چلتا تھا،لیکن اب صورت حال مکمل طورپر تبدیل ہوچکی ہے۔ میں صرف
لوگوں سے صرف اتنا ہی کہناچاہوں گا کہ وہ اپنے بچوں کو کتابوں کی طرف راغب
کریں کیوں کہ اس سے بڑھ کر کوئی بہترین ساتھی نہیں ہے۔
کتابوں کے ایک اور قدرداں کا کہنا تھا میری اپنی ذاتی ایک لائبریری ہے جہاں
4000سے زائد کتابیں موجود ہیں لیکن اس کے باوجود میرا شوق ختم نہیں ہوتا
اور میں ہر اتوار کو اس بازار کا دورہ ضرور کرتاہوں یہ سوچ کر شاید کچھ نئی
کتابیں مل جائیں۔