کراچی، پریس کلب کے باہر اساتذہ کی جانب سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف مظاہرہ
کراچی پریس کلب کے باہر 2012ء میں این ٹی ایس ٹیسٹ پاس کرنے والے سینکڑوں
اساتذہ کی جانب سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف مظاہرہ کیاگیا۔ مظاہرین
کا کہنا تھا ہم گزشتہ پانچ سال سے صرف اس امید پر اپنے فرائض سرانجام دے
رہے ہیں کہ شاید اس ماہ ہمیں تنخواہ مل جائے ،لیکن ہر بار ہمیں مایوس لوٹنا
پڑتاہے۔ گزشتہ پانچ سال سے ہم سڑکوں کی خاک چھان رہے ہیں مگر کہیں کوئی
شنوائی نہیں ہورہی۔
اس موقع پر ایک خاتون اساتذہ نے بات چیت کرتے ہوئے کہا ،کہاں ہے وہ
پیپلزپارٹی جس کا نعرہ روٹی ،کپڑا اور مکان ہے ، موجودہ پیپلزپارٹی نے
ہمارے منہ سے نوالہ چھین کر ہمیں برباد کردیا۔ہم اسکولوں میں ڈیوٹیاں دے
رہے ہیں ،ہم سے مردم شماری میں کام لیاجارہا ہے مگر ہمیں تنخواہ ادا نہیں
کی جارہی ہے۔ اساتذہ نے وزیراعلیٰ سندھ اور بلاول بھٹوسے مطالبہ کیا کہ
ہمیں تنخواہیں فوری ادا کی جائیں ۔
ایک اور اساتذہ نے بات چیت کرتے ہوئے کہا2012میں ہمیں این ٹی ایس ٹیسٹ پاس
کرکے قانونی طورپر بھرتی کیاگیا اور آفر لیٹر بھی جاری کیے گئے۔ گزشتہ پانچ
سال سے ہم ڈیوٹیاں ادا کررہے ہیں لیکن ہمیں اب تک تنخواہ ادا نہیں کی
جارہی ہے،جو سراسر ناانصافی ہے۔
مظاہرے میں شریک ایک اوراساتذہ نے بتایا کہ آج ہم حکومت سندھ کے خلاف اس
مظاہرے میں اس لیے اکھٹے ہوئے ہیں کہ اب ہماری برداشت ختم ہوتی جارہی
ہے،حکومت سندھ نے پانچ سال سے ہمیں تنخواہیں ادا نہیں کیں لیکن ڈیوٹیاں
پابندی سے لے رہی ہے۔ ہمارے گھروں میں نوبت فاقوں تک پہنچ چکی ہے مگر حکومت
کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔