کوئٹہ ، نواجوانوں کےہائیکنگ گروپ کادنیا کی بلند ترین چوٹیوںکو سر کر نے کا عزم
کو ئٹہ کے نواجوانوں کا ہا ئیکنگ گروپ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کو سر کر
نے کا عزم رکھتا ہیں،تاہم سر کا ری سطح پر مدد نہ ہو نے کے باعث آگے برھنے
میں دشواریوں کا سامنا ہے۔
محمد حسین بچپن سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بلو چستان کے سنگلا خ پہاڑوں میں
اپنی مدد آپ کے تحت ہائکینگ کر رہے ہیں۔نہ کو ئی جدید سہو لیات ہے اور نہ
ہی تحفظ کے لئے مو ثر آلا ت۔ اس کے باوجود ان کے شو ق کا کو ئی مول نہیں۔
خطرات باوجود وہ یہ کھیل کو جا ری رکھے ہو ئے ہیں ۔
بلو چستان ہا ئکنگ ایسو سی ایشن گروپ کے نام سے ہائکنگ کر نے والے ان نو
اجونوں نے،کو ہ مردار،کو ہ چلتن سمیت ہز اروں فیٹ بلند بالا چو ٹیوں کو سر
کر چکے ہیں۔اب وہ (کے ٹو)اور ماونٹ ایوریسٹ کو سر کرنے کی خوائش اور عز م
رکھتے ہیں ۔
بلو چستان کے پہاڑ اگرچہ (کے ٹو)ماونٹ ایو ریسٹ جیسے چوٹیوں کی طرح بلند
نہیں لیکن اس قدر سنگلا خ ہے کہ ان پہاڑیوں کو کے چو ٹیوں کو سر کرنا آسان
نہیں۔اگر ان نو اجونوں کی حکومتی سر پر ستی مل جا ئیں تو یہ پو ری دنیا کے
سامنے اپنی صلا حیتوں کا لو ہا منو ا سکتے ہیں۔
اس موقع پر ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان
ہائیکنگ ایسوسی ایشن کے صدرشرافت حسین ہزارہ کہنا تھا کہ ہم بلوچستان کا
نام روشن کرنا چاہتے ہیں جبکہ کوہ پیمائی کے ذریعے نوجوان نسل کو منشیات سے
بچا کر صحتمندانہ معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔
ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ ہائیکنگ کا شوق مجھے وراثت میں ملا ہے اگر حکومت
سرپرستی کرے تو پاکستان اور بلوچستان کانام روشن کر سکتے ہیں۔
بلوچستان ہائیکنگ کے جنرل سیکرٹری علی رضاکا کہنا تھا کہ ہم نوجوانوں کو
ہائیکنگ کی ٹریننگ تو دے رہے ہیں تا ہم حکومتی سطح پر اسکے لئے کسی قسم کے
کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے۔