کراچی، 70 ارب روپے کے نئے ٹیکس میں کراچی کو ایک ٹکہ نہیں دیاگیا،فاروق ستار
ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کا کہنا ہے کہ ستر ارب کے ٹیکس
میں کراچی کو ایک ٹکا بھی نہیں دیا گیا۔ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ
فاروق ستار کا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پی پی پی دیہی
سندھ کے عوام کی معصومیت کا فائدہ اٹھاتی ہے، ضلعوں اور شہروں میں وسائل
کوغیرمنصفانہ تقسیم کیا گیا۔
کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے
سربراہ فاروق ستار کہنا تھا کہ صوبوں سے اضلاع میں فنڈ کی تقسیم غیر
منصفانہ طور پر کی گئی جب کہ حیدرآباد کے ساتھ بھی بہت نا انصافی ہوئی،
وفاق سے ملنے والے وسائل میں سے کراچی کو 5 فیصد بھی نہیں دیا گیا، شہری
علاقوں سے سب سے زیادہ ٹیکس لیا جاتا ہے لیکن جاگیرداروں اور وڈیروں سے
کوئی ٹیکس وصول نہیںکرتا جب کہ شہری علاقوں میں پانی کے مسائل نے عوام کو
پریشان کر رکھا ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کو 9 برس میں 30
ارب کا براہ راست نقصان پہنچایا گیا، وفاقی وسائل سے کراچی کو 4 فیصد بھی
حصہ نہیں ملا، ٹیکسوں کا سارا بوجھ کراچی، حیدرآباد، سکھر، نوابشاہ پر ہے،
مرکز کو کراچی 65 فیصد اور صوبے کو 85 فیصد ٹیکس دیتا ہے، جبکہ وڈیروں،
جاگیرداروں کی آمدنی سے کوئی ٹیکس نہیں لیا جاتا، 70 ارب روپے کے نئے ٹیکس
میں کراچی کو ایک ٹکہ نہیں دیا۔
فاروق ستار کا کہنا تھا کہ سندھ میں جوکچھ ہورہا ہے، یہ سب وڈیرے کررہے ہیں
اس میں عام سندھی کا کوئی قصور نہیں، 9 سال کے دوران وفاق نے سندھ کو
آکٹرائے کی مد میں 30 ارب دیے جس میں سے بلدیہ کو کچھ بھی نہیں دیا
گیا،پیپلزپارٹی نے سندھ کو 2 حصوں میں تقسیم کیا، پی پی پی دیہی سندھ کے
عوام کی معصومیت کا فائدہ اٹھاتی ہے، ضلعوں اور شہروں میں وسائل کا
غیرمنصفانہ تقسیم کیا گیا، سندھ میں جو کچھ ہورہا ہے سب وڈیروں کا کیا دھرا
ہے۔