پشاور، پانامہ کیس پر ہم سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑے ہیں، اسفند یار ولی خان
عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے کہا آ ج کل میڈیا گرم
ہے،سیاست دان استعفی دو نہ دو کی سیاست کر رہے ہیں،پانامہ کیس پر ہم سپریم
کورٹ کے ساتھ کھڑے ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی نے دیگر رہنماوں کے ساتھ پشاور
میں واقع غلام بلور ہاوس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہااخلاقی باتیں کرنے
والے سپریم کورٹ کے فیصلے کو اخلاقی نہیں سمجھتے،یہ کسی سیاست ہے ایک دن
مٹھائیاں کھائی جائی دوسرے دن استعفی مانگے۔
اسفند یار ولی نے کہاعوامی نیشنل پارٹی کبھی وزیر اعظم سے استعفی کا مطالبہ
نہیں کریگی،عمران خان سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں مان رہے تو کل جے آئی ٹی
کی رپورٹ کیسے مانیں گے۔مشال قتل کیس میں سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس لینا
خوش آئند ہے۔مطالبہ ہے کہ گناہ گاروں کی صحیح تعین کیا جائے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ نے کہاعوام کو اختیار نہیں کہ وہ سزا یا جزا
کا فیصلہ کر کے کسی لاش کی بے حرمتی کرے،ہم پختون قوم کے مفادات کا سودا
نہیں کرینگے۔عمران خان نے وزیراعظم پر دس ارب روپے کا ہوائی الزام لگایا
ہے۔عمران خان الف اور عین کا فرق واضح کریں وہ ارب کی بات کر رہے ہیں یا
عرب کی۔
اسفند یار ولی نے کہا عمران خان اتنا بڑا الزام لگا رہے ہیں تو تفصیل بھی
دیں،وفاق نے شناختی کارڈز بلاک کا مسلہ حل کرنے کی یقین دہانی کرا دی
ہے۔تمام پختونوں کے شناختی کارڈ انبلاک کئے جائیں گے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی نے مزیدکہاہزاروں کے قاتل کو
سزا ضرور ملنی چاہئے،طالبان ے ترجمان ہو یا کوئی اور قاتل قاتل ہی ہوتا ہے۔
اے این پی صوبائی صدر امیر حیدر ہوتی نے کہامردان کے ضلع ناظم ہدیت اللہ
مایار کو شوکاز نوٹس انکے بیانات پر جاری کیا گیا،ہدایت اللہ مایار مشال
قتل کیس میں ملوث نہیں ہے۔
اے این پی صوبائی صدر امیر حیدر ہوتی نے مزید کہاانکی جانب سے جواب آیا ہے وہ آئندہ پارٹی پالیسی پر عمل کرینگے۔