کراچی،آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر کراچی کے صحافیوں کی آراء
آج دنیا بھر میں آزادی صحافت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے جس کا مقصدعالمی
سطح پر آزادی صحافت کویقینی بنانا اور صحافیوں کے زندگی کو محفوظ بنانا ہے
تاکہ وہ بے خوف وخطرحق اور سچ کو عوام کے سامنے لا سکیں۔
صحافیوں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے صحافی سخت ترین حالات میں بھی اپنے
فرائض سرانجام دیتے ہیں جس کے باوجود مختلف ممالک میں حکومتوں کی جانب سے
آزادیء اظہار رائے پر پابندی لگانا افسوس ناک عمل ہے، صحافیوں کی قربانیوں
کو فراموش نہیں کیا جا سکتا،کچھ بھی ہو جائے اپنے قلم اور کیمرے کی طاقت سے
ملک کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتے رہیں گے اور حق اور سچ کو سامنے
لاتے رہیں گے ۔
اس موقع پر ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے گزشتہ بیس سال
سے صحافت کے شعبے سے وابستہ فوٹوگرافر محمد بیگ نے کہا کہ صحافی ہر دور میں
مشکلات کا شکار رہے ہیں ،حکومت کی جانب سے دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں تاہم
انکی فلاح وبہبود کے لئے کچھ نہیں کیا جاتا۔
گزشہ دس سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ وزیرستان اور بلوچستان کے خطرناک
علاقوں میں صحافتی فرائض سرانجام دینے والے فاروق ثمر کا کہنا تھا کہ اس دن
کا مقصد یہی ہے کہ معاشرے میں بہتری لانے والے سچ کو سامنے لانے کے
صحافیوں نے جو قربانیاں دی ہیں انہیں یاد رکھا جائے۔
مختلف اخبارات اور چینلز میں رپورٹنگ کے فرائض سر انجام دینے والے معروف
صحافی اے کے محسن کا کہنا تھا کہ صحافی معاشے کا آئینہ ہوتا ہے اور معاشرے
میں ہونے والی برائیوں کو اور مسائل کو سامنے لاتا ہے،کرپشن کے سب سے بڑے
اسکینڈل پانامہ لیکس کو سامنے لانے میں بھی دنیا بھر کے صحافیوں کی محنت
شامل ہے۔