پشاور،آل پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کے عہدیداروں کاخیبرپختونخوا حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنے کا فیصلہ
آل پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کے عہدیداروں نےخیبرپختونخوا حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کر لیا ہے
پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کے عہدیداران نے کہا ہے کہ ریگولیٹری اتھارٹی کے
خلاف نہیں ہیں تاہم پہلے سے موجود اتھارٹی کی خامیوں کو دور کیاجاتا تو
بہترہوتا،ریگولیٹری اتھارٹی بل پرتحفظات دور نہ کرنے پر 11 مئی سے صوبہ بھر
میں تحریک کا آغاز کریں گے۔
پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹورک کے عہدیداران نے پشور پریس کلب میں پریس کانفرنس
سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ11 اور12مئی کو صوبہ کے 25 اضلاع کے ہیڈکوارٹرز میں
مظاہرے کیے جائیں گےجبکہ سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر16 مئی کو
صوبائی اسمبلی کے سامنے مظاہرہ کریں گے،تاریخ میں پہلی دفعہ احتجاجی طور پر
19اور20 مئی کوصوبہ میں تعلیمی ادارے بند کریں گے
واضح رہے کہ پشاور بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے سپریم کورٹ
کے احکامات کی روشنی میں تمام نجی سکولوں کے مالکان کو اساتذہ کی اجرت
پندرہ ہزار روپے مقرر کرنے اور سکولوں میں ماہر اساتذہ کی تعیناتی کویقینی
بنانے کیلئے حکم نامہ جاری کردیا ہےجبکہ مراسلہ کے مطابق جاری کردہ ہدایات
پر عمل درآمد نہ کرنےوالے سکول مالکان کے خلاف آرڈیننس 2002 کے تحت سخت
قانونی کارروائی کی جائے گی۔
جاری کردہ مراسلے میں سکول مالکان کو سات دن کے اندر اندر حلف نامہ جمع کرانے کی بھی ہدایت کی گئی ہیں۔
پشاور شہر کے اکثر نجی سکول اپنے ملازمین کو آٹھ سے بارہ ہزار روپے تنخواہیں دیتے ہیں۔