راولپنڈی، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا پریس کانفرنس سے خطاب
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ ہماری پریس ریلیز
کوبنیاد بنا کرفوج اورحکومت کو آمنے سامنے کھڑا کردیا گیا تاہم پاک فوج
جمہوریت کی اتنی ہی تائید کرتی ہے جتنا دیگر پاکستانی کرتے ہیں،ڈان لیکس کے
معاملے پر حتمی نوٹی فکیشن وزارت داخلہ سے جاری ہونا تھا تاہم جو نوٹی
فکیشن جاری کیا گیا وہ مکمل نہیں تھا جس پر آئی ایس پی آر کی جانب سے ٹوئٹ
کے ذریعے پریس ریلیز جاری کی گئی مگر وہ ٹوئٹ کسی حکومتی شخصیت یا ادارے کے
خلاف نہیں تھی بلکہ نوٹی فکیشن کے نامکمل ہونے پر کی گئی تھی۔
جی ایچ کیو میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے
ڈائریکٹر جنرل کاایران کے آرمی چیف کے بیان کے حوالے سے کہنا تھا کہ انہوں
نے اپنے ملک کے ماحول کے مطابق بیان دیا اس معاملے پر ایران سے بات ہوچکی
ہے‘ ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے اوراس کے ساتھ ہمارا بارڈر مینجمنٹ کا سسٹم
موجود ہے جسے آگے بھی جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے کہاہمیں سمجھنا ہوگا کہ
ہمارے دشمن کا انداز کیا ہے اور وہ ہمیں کس طرح سے الجھانا چاہ رہا ہے۔ یہ
ٹوئنٹی ٹوئنٹی کا دور ہے اور پاک فوج اور عوامِ پاکستان نے اچھی اننگ کھیلی
ہے‘ ہم یہ جنگ جیتنے والے ہیں۔
چمن بارڈر پر پیش آنے والے افسوس نا ک سانحے کی تفصیلات بتاتے ہوئے میجر
جنرل آصف غفور نے کہا کہ چمن بارڈر پردو منقسم گاؤں ہیں، افغان حکام کو اس
حوالے سے آگاہ کیا گیا تھا تاہم اس کے باوجود وہاں سے دخل اندازی کا سلسلہ
جاری رہا۔
ترجمان پاکس فوج نے کہا کہ ایل او سی پربھارتی فوجیوں کی لاشوں کی بے حرمتی
کے الزامات بالکل بے بنیاد ہیں‘ انڈیا دنیا کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹانا
چاہتا ہے،اس معاملے کے بعد بھارت نے ہمارے ان شہریوں کے لیے جو علاج کی
غرض سے بھارت جانا چاہتے تھے ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کردی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادو کو سزا ثبوتوں کی بنا پر
ملٹری کورٹس نے سنائی ہے اور سزا کے حوالے سے ملٹری کا اندرونی پراسس ابھی
جاری ہے،اگر اس کے حوالے سے کوئی عالمی سطح پر حکومتِ پاکستان سے درخواست
کی جائے گی تو دفترِ خارجہ اس پر آپ کو پیش رفت سے آگاہ کرے گا۔
نورین لغاری کے حوالے سے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کہ وہ انیس سال کی
ایک بچی ہے جو دہشت گرد نہیں بلکہ دہشت گرد بننے جارہی تھی، اگریہ میری یا
آپ کی بیٹی ہوتی توکیا ہم تصور کرتے کہ اس کے ساتھ دہشت گرد کا سارویہ
اختیارکیا جاتا،جب نورین لغاری معاشرے کا حصہ بنے گی اور نوجوان نسل کو
بتائے گی کہ کس طرح اسے اس جال میں پھنسایا گیا اور اس کے معاشرے پر مثبت
اثرات مرتب ہوں گے۔
احسان اللہ احسان کے اعترافی بیان کی ویڈیو سے متعلق میجر جنرل آصف
غفورنیکہا کہ اس پر ملک کا قانون لاگو ہوگا اوراس کے حساب سے سزا دی جائے
گی، ویڈیو جاری کرنے کا مقصد اسے ہیرو بنا کر پیش کرنا نہیں بلکہ دنیا کو
باور کراناتھا کہ طالبان نے کیا کیا کارروائیاں کی ہے اور پاکستان کے لیے
کس طرح مشکلات پیدا کی۔