کوئٹہ،مستونگ حملہ خودکش تھا ،ہدف میں ہی تھا،مولانا عبدالغفور حیدری
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ مستونگ میں ہونے
والا حملہ خودکش تھا جس کا ٹارگٹ میں ہی تھا تاہم حملے میں کون ملوث ہے اور
کونسی قوتیں ہیں جو جمعیت علماء اسلام کے قائدین کو نقصان پہنچانا چاہتی
ہیں سب جانتے ہیں،تحقیقات مکمل ہونے تک کسی پر الزا م نہیں لگا رہا۔
مولانا عبدالغفور حیدری نے جامع مسجد ٹی اینڈ ٹی کالونی میں سانحہ مستونگ
کے شہدا کیلئے تعزیتی ریفرنس کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ مستونگ
سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوئے اور مجھے یقین ہے کہ شہدا کی قربانی سے
انقلاب آئے گا جبکہ سانحہ مستونگ سے ہمارے نظریہ کو مزید تقویت ملے گی۔
عبدالغفور حیدری نے کہاکہ بھارت نے پاکستان کی آزادی کو آج تک تسلیم نہیں
کیا اور اس کی مسلسل سازشوں کی وجہ سے پاکستان عدم استحکام کا شکار رہا
لیکن بھارت کو باور کراناچاہتا ہوں کہ پاکستان اب ایٹمی قوت ہے جس کے پاس
مضبوط فوج ہے،پاکستان کسی کے لیے تر نوالہ نہیں کہ اسے کوئی ہضم کر سکے ،
پاکستان نے اپنے ہمسائیوں کیساتھ ہمسائیوں جیسا سلوک رکھا ہوا ہے مگر وہ
بھار ت کے آلہ کار بن کر پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
ڈپٹی چیئر مین سینیٹ نے مزید کہا کہ 14اکتوبر کو مولانا فضل الرحمن پر بھی
قاتلانہ حملہ ہوا، دنیا سمجھتی تھی کہ یہ تحریک کمزور پڑ جائے گی مگر ہمارے
حوصلے پست نہیں ہونگے۔
واضح رہے کہ چند روزقبل جے یو آئی (ف) کے رہنما کے قافلے کو مستونگ میں
اسوقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک تقریب میں شرکت کے بعد واپس جا رہے
تھے،اچانک خوفناک دھماکہ ہوا اور ہر طرف لاشے بکھر گئے، خودکش دھماکے میں
27 افراد شہید ہو گئے تھے جبکہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ عبدالغفور حیدری سمیت 35
سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔