May 20, 2017 02:29 pm
views : 684
Location : Lahore High Court Bar
Lahore- Lawyers Clash
لاہور،وزیر اعظم سے استعفیٰ کےمطالبے کے لئے بلائے جانے والاوکلاء کنونشن بد نظمی کا شکار
وزیراعظم نوازشریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کے لیے بلایا جانے والا وکلاء کنونشن شروع ہونے سے پہلے ہی بدنظمی کا شکارہو گیا۔
لاہور ہائی کورٹ کےوکلاء کنونشن میں مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف کے وکلاء آمنے سامنے آ گئے، وکلاء نے اپنے اپنے سیاسی قائدین کے حق نعرے بازی کی، ہنگامہ آرائی کی وجہ سے حالات کشیدہ ہو گئے جن پر قابو پانے کے لئے پولیس کی بھاری نفری ہائیکورٹ پہنچ گئی ہے۔
لاہور میں سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ بار نے وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ سے مطالبہ کیلئے کنونشن بلا رکھا تھا مگر کنونشن کے آغاز سے پہلے ہی مسلم لیگ ن کے حمایتی وکلاء آڈیٹوریم میں داخل ہو گئے، اس صورتحال میں مسلم لیگ ن کے حمایتی وکلاء اور مخالفین میں آپس میں خوب دھکم پیل اورتلخ کلامی ہوئی،دھکم پیل سے آڈیٹوریم کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔
سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ بار کے وکلاء کا کہنا ہے کہ حملہ ن لیگ لائرزفورم کے عہدیداروں نے کیا ہے مگر وکلاکنونشن ہرصورت ہو گا، بارعہدیداران کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کریں گے، پانامالیکس پر تحقیقات مکمل ہونے تک وزیراعظم مستعفیٰ ہو جائیں۔
دوسری جانب حکومت کے حمایتی وکلاء ڈٹے ہوئے ہیں کہ یہ کنونشن کسی صورت نہیں ہونے دیں گے،پاناما لیکس پر سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی گئی جے آئی ٹی کی تحقیقات مکمل ہونے تک وزیراعظم سے یہ مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔
ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار کے صدررشید اے رضوی نے کہا کہ کنونشن کے آغاز سے قبل ہی حکومت کے حمایتی وکلاء نے ہمارے ساتھ بدتمیزی کی اور زبردستی لائبریری میں بند کردیا۔
رشید اے رضوی نے کہا کہ نواز شریف وزیر اعظم کے عہدے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں،انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے