لاہور،وزیر خزانہ پنجاب عائشہ غوث پاشا کی ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو
صوبائی وزیر خزانہ پنجاب عائشہ غوث پاشا کا کہنا ہے کہ ورلڈ بینک کی ششماہی
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی اکانومی اس وقت جنوبی ایشیا کی بہترین معیشتوں
میں شمار کی جا رہی ہے جو اگر اسی رفتار سے ترقی کرتی رہی تو 2017کے اختتام
تک ہمارا جی ڈی پی ریٹ 5.2فیصد تک پہنچ جائے گا جو سال 2016کے دوران
4.7فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی برآمدات کو
بہتر بنائیں اورایس ایم ایز کو فروغ دیں۔
لاہور کے نجی ہوٹل میں ورلڈ بنک اور لاہور سکول آف اکنامکس کے اشتراک سے
پاکستان کی معاشی صورتحال کے حوالے سے ورلڈ بنک کی ششماہی رپورٹ کی تعارفی
تقریب کے موقع پر ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئیعائشہ
غوث نے کہا کہ آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ ہونے کی حیثیت سے پنجاب
پاکستان کی معاشی ترقی و خوشحالی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔
توانائی، صنعت ،زراعت، ریسورس مبلائزیشن،ایمپلائمنٹ اینڈ سکلز
ڈویلپمنٹ،پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور اربن نائزیشن کے شعبوں میں جامع اور
پائیدارپالیسیوں کے تحت اصلاحات متعارف کروائی جا رہی ہیں جن کے خاطر خواہ
نتائج برا?مد ہو رہے ہیں۔
وزیر خزانہ پنجاب نے مزید کہا کہ 2018تک 2ملین نوجوانوں کی سکلز ٹریننگ کے
بعد عالمی لیبر منڈیوں تک رسائی ممکن بنائی جائے گی،ملکی تاریخ میں پہلی
بار چھوٹے کسانوں کو بلاسود قرضوں، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال اور
جدید تحقیق سے استفادے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں تا کہ وہ پیداوار میں
اضافے کے ساتھ ملکی خوشحالی میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں، صوبائی وزیر
نے کہا کہ حکومت پنجاب کا ورلڈ بینک کے ساتھ دہی علاقوں کی ترقی اور زرعی
منڈیوں کے استحکام کا منصوبہ ۔"سمارٹ پنجاب"زراعت کے میدان میں تیزفتار
ترقی کا سبب بنے گا۔