اسلام آباد چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ دوسروں کی جنگوں
میں شرکت پاکستان کے مفاد میں نہیں اور ہم نہیں چاہتے کہ مسلم دنیا میں
انتشار ہو جبکہ وزیراعظم نواز شریف کو کہنا چاہیے تھا کہ ہم فریق نہیں ثالث
بنیں گے اور واضح کرتے کہ پاکستان ایران کو الگ نہیں رکھنا چاہتا,عمران
خان نے کہا کہ ایران کو تنہا کیا جا رہا ہے اور وزیراعظم پاکستان تماشائی
بنے رہے اس طرح کی پاکستان کی خارجہ پالیسی پر نواز شریف کو استعفیٰ دینا
چاہیے۔
کپتان نے نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا سعودی عرب میں نواز شریف کو میچ
کھلایا ہی نہیں گیا اور وہ 12 ویں کھلاڑی کے طور پر بیٹھ کر تالیاں بجاتے
رہے اور سنا ہے نواز شریف نے تقریر تیار کرنے میں 6 گھنٹے لگائے۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ یہ خوش آئند بات ہے
کہ سپریم کورٹ نے 60 روز میں جے آئی ٹی کو تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیا
ہے، سپریم کورٹ نے کہہ دیا کہ پاناما کیس کریمنل انویسٹی گیشن ہے۔
عمران خان نے کہا کہ کل جس طرح پاکستانی وزیراعظم کو ٹریٹ کیا گیا وہ
شرمندگی کا باعث ہے اور ٹرمپ کی باتوں پر نواز شریف کو کوئی تو بیان دینا
چاہیے تھا۔
پی ٹی آئی کے چیئر مین نے کہا کہ بھارت کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کر رہا
ہے جبکہ پاکستان کو امریکا کی جنگ کے لیے 100 ارب کا نقصان ہوا اور 70 ہزار
پاکستانیوں کی جان گئی لیکن ٹرمپ کو تو پاکستان یاد ہی نہیں آیا صرف بھارت
کی بات کرتا رہا ہے،نواز شریف پاکستان کے وزیراعظم ہیں تو کم از کم
پاکستان کے لوگوں کی ہی بات کر لیتے۔