کوئٹہ،بلوچستان کے نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں لیے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ، زمرک اچکزئی
بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی کا کہنا ہے
کہ صوبائی حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے صوبے میں 45
ہزار سرکاری ملازمین کے شناختی کارڈز جعلی ہیں۔
کوئٹہ پریس کلب کے باہر طلباء4 تنظیموں کی جانب سے لگائے گئے بھوک ہڑتالی
کیمپ میں آمد کے موقع پر زمرک اچکزئی نے کہا کہ حکومت طلباء کے مسائل
ترجیحی بنیادوں پر حل کرے بلوچستان کے نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں لیے در بدر
کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں دوسری طرف صوبائی حکومت جعلی شناختی کارڈز
پر بھرتی ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں ہے۔
ڈپٹی اپوزیشن لیڈرنے کہا کہ اگر حکومت نے اپوزیشن اراکین اسمبلی کے ساتھ
امتیازی سلوک جاری رکھا تو احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے گا یہاں صوبائی
وزیر قسم کھا کر کہتا ہے کہ پیسے لے کر ملازمتیں دی جا رہی ہیں اگر ایسا
ہے تو اس کا زمہ دار کون ہے۔