کراچی ، پاناما کیس سے کرپٹ مافیا کو پیغام گیا کہ اب سب کی باری آئے گی، عمران خان
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو
جب عدالت نے جے آئی ٹی میں گھسیٹا تو کرپٹ مافیا کو پیغام گیا کہ اب سب کی
باری آئے گی۔
کراچی بار ایسوسی ایشن کی
تقریب میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ تاریخ بتاتی ہے
کبھی عدالتوں نے طاقتور پر ہاتھ نہیں ڈالا، جہاں طاقتور کے لئے ایک اور
کمزور کے لئے دوسرا قانون ہو تو وہ معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔
عمران خان نے کہا کہ پاناما کیس سے متعلق سوا سال تک جو جہاد ہوا اس کا
فیصلہ کن وقت ہے اور اب ہمیشہ کے لئے پاکستان بدل چکا ہے۔ کبھی اس ملک میں
طاقتور مافیا کو کٹہرے میں نہیں لایا گیا اور نواز شریف کو عدالتوں اور جے
آئی ٹی میں گھسیٹا گیا تو کرپٹ مافیا کو بھی پیغام گیا کہ اب ان کی بھی
باری آئے گی۔
چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ نواز شریف کہتے ہیں کہ انہیں کیوں نکالا، وہ
یہ نہیں کہہ رہے ہیں ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی بلکہ کہہ رہے ہیں کہ وہ
طاقت ور ہیں اور عدالتیں انہیں کیسے بلاسکتی ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ نواز شریف کو معلوم ہے کہ قانون کہتا ہے کہ پبلک آفس
ہولڈر کو اثاثوں کا جواب دینا پڑتا ہے لیکن انہوں نے کہا کہ آمدن سے زائد
اثاثے ہیں تو تمھیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے ساتھ جو یہ کہہ رہے ہیں کہ جمہوریت خطرے میں
ہے تو انہیں اپنی کرپشن خطرے میں دکھائی دے رہی ہے۔ کرپٹ مافیا اقتدار میں
آتا ہے اور اقتدار سے جاتے ہیں تو جیل چلے جاتے ہیں، پیپلزپارٹی کی پہلی
حکومت ختم کی گئی تو آصف زرداری وزیراعظم ہاؤس سے جیل گئے اور پھر حکومت
آئی تو وہ دوبارہ وزیراعظم ہاؤس آئے۔
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ پہلے قانون کی بالادستی
ہوتی ہے پھر ترقی اور خوشحالی آتی ہے، کوئی بھی ملک قانون کی بالادستی کے
بغیر ترقی نہیں کرسکتا، امید ہے آنے والے دنوں میں ایسی بڑی تبدیلی آرہی
ہے اور اسی سے پاکستان اٹھے گا۔
اس سے قبل جب چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان وکلا سے خطاب کے لئے
آئے توانہوں نے جناح کیپ پہن کر اپنے منفرد اسٹائل میں ایک اور اضافہ
کرلیا۔
کبھی پشاوری چپل، کہیں کالا چشمہ تو کبھی روائتی شلوار قمیض، عمران خان کا
ہر اسٹائل ہی نرالارہا لیکن آج تو کپتان نے جناح کیپ پہن کر قائد اعظم اور
سابق وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو کی یاد تازہ کردی۔
جناح کیپ ہی نہیں، کپتان اپنے منفرد اسٹائل سے اپنی شخصیت کا اثرچھوڑ چکے
ہیں۔ کبھی روایتی شلوار قمیض تو کبھی کالاچشمہ اور کبھی کندھے پر پارٹی
پرچم اوڑھ کر پرجوش خطاب کرتے نظر آئے۔
اورتو اور پشاوری چپل تو ایسی ہٹ ہوئی کہ کپتان کے پاوں میں پڑتے ہی نام کپتان چپل پڑ گیا۔