پشاور،سانحہ اے پی ایس کو 3 سال گزرگئے،شہید بچوں کے اہل خانہ کے زخم آج بھی تازہ
سولہ دسمبر 2014 کوآرمی پبلک سکول پر حملےکے تین سال گزر گئے ،جہاں شہید
بچے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں تو وہیں شہدا کے والدین آج بھی اپنے پیاروں
کو بھلا نہیں پائے۔
معصوم بچوں کے والدین کی وہ آہ اور سسکیاں آج بھی پو ری قوم کو یاد ہےجس
دن سفاک اور بے رحم دہشگردوں نے آرمی پبلک اسکول کے طلبہ کو نشانہ بنا یا
،تین سال بیت گئے 16 دسمبر2014 دہشت گردوں نے 122 طلبہ اور 20 سے زائد سکول
سٹاف کو خون میں نہلایا،وہ دن اآج بھی لوگوں کو یاد ہے جہاں گھر گھر میں
ماتم کا سماں رہا،اور صرف یہ نہیں بلکہ شہیدبچوں کے والدین اپنے پھول
جیسے بچوں کو بھول ہی نہیں سکتے۔
دو سگے بھائی ننگیا ل طارق اور شموئیل بھی آرمی پبلک سکول کے شہدا میں
شامل ہیں،والدین کے ساتھ دوسرے بہن بھائی آج بھی صدمے سے نہیں نکلے،
ننگیا
ل اور شموئیل کے بچھڑنے پر انکاخاندان غمزدہ ضرور ہیں لیکن جہاں ان
دونوں پھولوں کی شہادت پر انکا سر فخر سے بلند ہیں تو وہی ابھی تک انصاف
نہ ملنے پرحکومت سے شکوہ کرتے نظر آرہے ہیں۔
سانحہ اے پی ایس کے غم کو بھولنے کے لئے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے
اکھاڑ پھینکنے کے لئے نئی حکمت عملی ناگزیر ہے
،جب تک ملک سے دہشتگردی
کے خاتمے کویقینی نہیں بنایا جاتا تب تک غم سے نڈھال اس خاندان کے دکھ کو
کم کرنا ممکن نہیں ۔
شہید بھائیوں کے والد نے ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے
کہا کہ جب میں باہر سے آتا تھا تو میرے بچے مجھ سے لپٹ جاتے تھے اور میں
خود کو چھڑا نہیں پاتا تھا انکی یہ عادت میں بھلا نہیں پاتا۔