اسلام آباد،سابق وزیر داخلہ سینیٹر رحمٰن ملک کی صحافیوں سے گفتگو
سابق وزیر داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے سیاستدانوں کو سنبھلنے کا اشارہ دے
دیا کہتے ہیں ملکی سیاسی حالات خطرناک ہیں،کل کے فیصلوں کے بعد معاملہ یہیں
نہیں رکنا،جو دنگل شروع ہوا ہے وہ گھمسان کی جنگ میں نہ بدل جائے،اگر
گھمسان کی جنگ شروع ہوئی تو نقصان جمہوریت کو ہونا ہے،سیاستدان بیٹھ کر
اپنی حد مقرر کریں،سیاستدانوں کے اختیارات کے قانونی سقم قانون سازی سے دور
کریں۔
ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر رحمان ملک نے
کہاکہ آج پارلیمنٹ میں بیٹھ کر جو کر سکتے ہیں، ہو سکتا ہے کل نہ کر
سکیں،موجودہ چیف جسٹس جب سے آئے انصاف کا ترازو نہیں چھوڑا،حدیبیہ پیپر کیس
لگنے کا چیف جسٹس کو نہیں پتہ تھا تو ہمیں یقین کر لینا چاہیئے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ ن لیگ و تحریک انصاف کو مشورہ ہے کہ
جوڈیشری و اداروں پر تنقید بند کریں،جہانگیر ترین نے جنرل سیکرٹری شپ سے
مستعفی ہو کر بہتر فیصلہ کیا۔
سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ مشکل لگتا ہے کہ جس قانون کی مخالفت کی اس کے
تحت جہانگیر ترین کو جنرل سیکرٹری رہنے پر مجبور کریں،اگر اس قانون کی
مخالفت نہ کی ہوتی تو آج فائدہ تحریک انصاف کو بھی ہوتا،جی آئی ٹی کے نام
ان خدشات کا اظہار کیا تھا جو حدیبیہ پیپلز ملز پر فیصلے سے واضح ہوا۔