لاہور، عدالتوں سے سیاست دانوں کی نااہلی کے خلاف ہوں ،خواجہ سعد رفیق
وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہاعدلیہ سے ہمارا کوئی اختلاف
نہیں ہے ،اگرکوئی بینچ ایسا فیصلہ دے جو قانون اور انصاف کے منافی ہے ، اس
پر ہم بات کریں گے اور وہ بات کر نے کا حق آئین اور قانون کے دائرے میں
ہے،اس کا یہ مطلب نہ لیا جائے کہ عدلیہ کے خلاف بات کی ہے،عدلیہ نے تو
حدیبیہ کا فیصلہ بھی کیا،عدلیہ اور بھی فیصلہ کرتی ہے۔
ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ
نواز شریف صاحب کو کہا گیا آپ نے اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ لی تو نہیں
لیکن مینشن کی اگر آپ لے لیتے تو؟اس طرح آپ نا اہل ہیں اور اقامہ پر بھی
نا اہل ہیں جبکہ عمران خان کہہ رہے ہیں کہ میرے آف شور کمپنی ہے جو میں نے
شو نہیں کی ان کو کہا جارہا ہے کہ کوئی بات نہیں اور ان کو جانے دیا جا
رہاہے ۔
وزیر ریلوے نے کہا کہ میں عدالتوں سے سیاست دانوں کی نااہلی کے خلاف ہوں
کیونکہ یہ پیچیدگی کو جنم دیتی ہیں،عمران خان نے پانچ سال پہلے فارن فنڈنگ
لی ہے اس پر بات کیوں نہیں کی گئی ، ان کو کلین چٹ دے دی گئی اسی لیئے کہا
جا رہا ہے ان کو جانے دیا گیا،اس پر پھر لوگ سوالات کرتے ہیں،اس لیئے کہا
جاتا ہے کہ ہمارے لئے اور طرح کے فیصلے ہیں اور عمران خان صاحب کیلئے اور
طرح کے ۔
خواجہ سعد رفیوق نے مزید کہا کہ عمران خان صاحب جو بہت ایماندار بنتے ہیں
وہ کاروبار کیا کرتے ہیں سعد رفیق نے کہا کہ میری تو کمپنی ہے سعد ین
ایسوسی ایٹس میں اس کا ٹیکس بھی دیتا ہوں،ان کے کاروبار کا نام کیا ہے ان
کی آمدنی کتنی ہے،یہ کمال صرف عمران خان کے ہی پاس ہے کہ ڈھائی کمروں کا
فلیٹ بیچ کر تین سو کنال کا گھر تعمیر کرلیں ،تین سو کنال کے گھر میں وہ
رہتے ہیں اس کے یوٹیلٹی بل کتنے ہیں،عمران خان کی انکم کہاں سے آتی ہے ، وہ
اپنا کاروبار بھی نہیں بتاتے،انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ ان کا ٹیکس دو
لاکھ سے اوپر کیوں نہیں جاتا۔