پشاور،مسیحی برادری کی جانب سے کرسمس کی مناسبت سے تقریب کا انعقاد
پشاور میں کرسمس کی باقاعدہ تقریبات کے آغاز سے قبل مسیحی برادری نے مقامی
ہوٹل میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا،کرسمس کی اس رنگارنگ تقریب میں دعائیہ
گیت گائے گئے اور مذ ہبی خاکے بھی پیش کئے گئے ۔
کرسمس کی مناسبت سے ہونے والی اس خصوصی عبادت کی تقریب میں قیام امن اور
ملک سے تعصب کے خاتمے کے لیے خصوصی دعائیں بھی مانگی گئیں جبکہ کرسمس کے
پیغام میں کہا گیا کہ سب فرقے آپس میں بھائی چارے سے رہیں تاکہ تفرقے کا
خاتمہ ہو سکے۔
پشاور میں کرسمس کا تہوار 146مڈ نائٹ سروس145 کے بعد شروع ہوتا ہے جس میں
مسیح اپنے عزیز و اقارب سے ملتے ہیں اور کرسمس کی خوشی میں تحائف کا تبادلہ
کیا جاتا ہے،ان تحائف میں کرسمس کیک کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، یہ سلسلہ نئے
عیسوی سال کی آمد تک جاری رہے گا۔
کرسمس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس دنیا میں آمد کی خوشی کا تہوار ہے، جو
25 دسمبر کو منایا جاتا ہے، اس دن کی مناسبت سے مختلف کیتھولک گرجا گھروں
میں چراغاں کیا جاتا ہے اور 146چرنیاں145 سجائی جاتی ہیں۔ ان چرنیوں میں
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس دنیا میں آمد سے کچھ دیر قبل کے مناظر کی
عکاسی کی گئی ہوتی ہے کچھ مرد و خواتین ایک ستارے کو دیکھ کر حیران ہو رہے
ہیں اور انہیں یہ گمان ہو رہا ہے کہ جیسے کوئی اہم واقعہ رونما ہونے والا
ہے،رات 12 بجے کے بعد اس چرنی میں ایک بچے کی شبیہہ رکھ دی جاتی ہے جس سے
مراد یہ لی جاتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ہو چکا ہے۔
اس موقع پر ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے تقریب میں شریک
نوجوان رابن سن نے کہا کہ ہم پاکستان میں پر امن طریقے سے رہ رہے ہیں جبکہ
کرسمس اور دیگر تہوار بھی مکمل آزادی کے ساتھ مناتے ہیں۔
ذیشان مسیح نے کہا کہ کوئٹہ میں ہونے والے واقعے کی مذمت کرتے ہیں جبکہ کرسمس کو اس بار سادگی سے منائیں گے ۔