کراچی،مطالبات کے حق میں اساتذہ کا احتجاج،پولیس کا ایکشن ،متعدد گرفتار
برنس روڈ پر مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے والے اساتذہ کے خلاف پولیس نے
ایکشن لیتے ہوئے واٹر کینن،آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا جبکہ
خواتین سمیت 40 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کر لیاہے۔
سندھ میں این ٹی ایس ٹیسٹ پاس کرنے والے اساتذہ نے مستقل نہ کرنے پر احتجاج
کیا، پولیس نے احتجاجی اساتذہ کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا اور خواتین سمیت
40 سے زائد اساتذہ کو حراست میں لے لیا۔
مظاہرین نے وزیراعلی ہاؤسجانے کی کوشش کی تو پولیس نے چادر اور خواتین کی
حرمت کا بھی لحاظ نہ کیا اور اساتذہ کو بھیڑ بکریوں کی طرح گھسیٹ کر پولیس
وین ڈالتے رہے، ایک طرف خواتین ٹیچرز مطالبات والے بینرز بچاتی رہیں جبکہ
دوسری جانب لیڈیز پولیس اہلکار بینرز چھینتی رہیں، لیڈیز پولیس اہلکاروں نے
تشدد کیا اور ٹیچرز کے پلے کارڈ چھین کر پھاڑ دیئے۔
اساتذہ کا کہنا ہے حکومت نے ایم فل، پی ایچ ڈی اساتذہ کے ساتھ یہ رویہ
اختیار کیا، ہم سے تین سال میں مستقلی کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن ٹیسٹ کلیئر
کرنے کے باوجود پوسٹنگ نہیں دی گئی۔
اس موقع پر ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مظاہرے میں
شریک ٹیچر نے کہا کہ اپنی قابلیت کی بنیاد پر این ٹی ایس ٹیسٹ پاس کیا اس
لئے انہیں مستقل کر کے انکا حق دیا جائے،ابھی ہمارے مذکرات ہوئے تو ہمیں
پتہ چلا ہے کہ ہماری سمری وزیر اعلیٰ سندھ کے پاس ہے لیکن ابھی وہ ملک سے
باہر ہیں۔