ڈیرہ بگٹی، ٹوبہ نوحکانی میں گھر پر فائرنگ خواتین بچوں سمیت 7 افرادجاں بحق 4 زخمی
ٹوبہ نوحکانی میں گھر پر فائرنگ خواتین بچوں سمیت 7 افرادجاں بحق 4 زخمی
ہوگئے ہیں،زخمیوں کو سوئی پی پی ایل ہسپتال منقل کیا گیا جہاں پر انہیں طبی
امدا دی جا رہی ہے بلوچ رہنما میر جان محمد بگٹی فوری طور پر ہسپتال پہنچ
گئے اور زخمیوں کو مزید علاج کے لیے رحیم یار خان منتقل کیا جائے گا ۔
آج صبح نامعلوم افراد نے ٹوبہ نوحکانی کے علاقے میں ایک گھر پر فائرنگ کی
جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد جاں بحق ہوئے زخمیو ں اور
لاشیوں کو لینے کے لیے جانے والی گاڑی باردودی سرنگ سے ٹکراگئی جس کے نتیجے
میں ایک شخص جاں بحق اور دوزخمی ہوگئے۔
افسوس ناک واقع ڈِیرہ بگٹی کے ٹوبہ نوحکانی میں پیش آیانامعلوم مسلح افراد
نے گجڑ نامی شخص کے گھر پر گھس کرفائرنگ کی جس سے گجڑ اور اس دو بیویاں تین
بچے موقع پر جاں بحق ہوئے اور دو افرادشدیدزخمی ہوگئے ذرائع کے مطابق ایک
گاڑی اس وقت بارودی سرنگ سے ٹکراگئی جوزخمیوں کوہسپتال لے جانے کے لیئے
جارہی تھی بارودی سرنگ دھماکے میں ایک شخص جاں بحق دو زخمی ہوگئے دونوں
واقعات کے لاش اورزخمیوں کوقریبی ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے
دونوں واقعات میں7 افرادجاں بحق 4 زخمی ہوگئے لیویزفورس واقع کی تفتیش
کررہی ہے۔
ٹاؤن چیئرمین سوئی نے ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا
کہ بحیثیت ٹاؤن چیئرمین واقعے کی مذمت کرتاہوں جبکہ یہ ظلم کوئی مسلمان یا
انسان نہیں بلکہ مودی یا اسرائیلی کر سکتے ہیں۔
مقامی شخص نے کہا کہ بلوچ رہنماؤں کو اس واقعے پر آواز بلند کرنی چاہیے۔
میر جان محمد بگٹی نے کہاکہ عاصمہ جہاگیر جو انسانی حقوق کی علمبردار بنتی
ہیں انہیں چاہیے کہ اس واقعے پر اپنی آواز بلند کرے اگر انہوں نے ایسا نہیں
کیا تو ہم سمجھیں گے کہ ان بچوں کے قتل کی وہ بھی اتنی ہی ذمہ دار ہیں
جتنا براہمداغ بگٹی۔