کراچی، فیصلوں پر اعتراض اورتنقید کا حق رکھتے ہیں لیکن ججز کوکبھی بھی یہ نہیں کہیں گے یہ بغض سے بھرے ہوئے ہیں،اسد عمر
رہنما پاکستا ن تحریک انصاف اسد عمر کا کہنا ہے کہ ماضی قریب میں سیاسی
نوعیت کے چار بڑے فیصلے ہوئے جن میں نواز شریف ،عمران خان، حدیبیہ اور
جہانگیر ترین کے فیصلے شامل ہیں ہوسکتا ہے ان میں کچھ فیصلے پی ٹی آئی کے
کارکنوں کو نا پسند ہوں اور ہم ان فیصلوں پر اعتراض اورتنقید کا حق رکھتے
ہیں لیکن ججز کوکبھی بھی یہ نہیں کہیں گے یہ بغض سے بھرے ہوئے ہیں اور وقت
پڑنے پر عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
سٹی کورٹ میں وکلا سے ملاقات کے موقع پر پریس اکنفرنس سے خطاب کرتے ہوئے
اسد عمر نے کہا کہ فاٹا کا جو حق تھا اسے ملنا چاہیے تھا فاٹا کی آواز نہ
سننے کی اہم وجہ کسی صوبے کا حصہ اور مقامی قیادت نہ ہونا ہے،آزادی کے بعد
انڈیا اور پاکستان الگ ہو گئے جس پر کچھ لوگ تنقید بھی کرتے ہیں ان لوگوں
کے لئے کشمیر گلگت اور فاٹا کی مثال سب کے سامنے ہے،مقبوضہ کشمیر کے عوام
آزادی اور فاٹا اور گلگت کے عوام پورا پاکستانی ہونے کا حق مانگ رہے
ہیں،ہمیں اس جذبے کی قدر کرنی چاہیے،وفاق اور دیگر صوبے بھی فاٹا کوحق دیکر
قومی یکجہتی کا اظہار کریں ۔
پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ قائد اعظم نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا
ہماری ایک نسل اسے پورا کرنے میں ناکام ہوگئی ہے اب ہمارا فرض بنتا ہے کہ
ہم آنے والی نسلوں ایک بہتر پاکستان دیں۔