گمبٹ ،حکومت کی جانب سے گنے کے مناسب نرخ مقرر نہ کرنے کے خلاف کاشتکاروں کا دھرناجاری
گمبٹ میں گنے کے کاشتکاروں کا گنے کے مناسب نرخ نہ ملنے کے خلاف مین شاہراہ
پر24 گھنٹے سے دھرنا جاری ہے ، دھرنے کی قیادت لعل سیال، جمال کھڑو اور
دیگر رہنما کر رہے ہیں،مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر
سندھ اور وفاق حکومت کے خلاف نعرے درج تھے ، بینرز پر کاشتکاروں اور ہاریوں
کا معاشی قتل بند کرو ، سندھ کے خلاف ناانصافی نہیں چلے گی جیسے نعرے درج
تھے۔
دھرنے کے شرکاءِ کا کہنا تھا کہ مناسب ریٹ نہ ملنے سے کاشتکار معاشی بدحالی
کا شکار ہے ، گھیتوں میں پڑے پڑے گنے کی فصل سوکھ پر تباہ ہورہی ہے جس کے
باعث کاشتکار خود کشی کرسکتا ہے جس کی ذمہ داری سندھ اور وفاقی حکومتوں پر
عائد ہوگی۔
گنے کے کاشتکار وں کا کہنا ہے کہ دیگر صوبوں کی میں گنے کے ریت 281 روپے فی
من مقرر کئے گئے ہیں جبکہ سندھ میں 90 روپے فی من مقرر کئے گئے ہیں ،
مظاہرین نے مطالبہ کیاہے کہ سندھ میں بھی دیگر صوبوں کی طرح 281 روپے ہی
مقرر کئے جائیں ، ورنہ ہمارا دھرنا جاری رہے گا۔دھرنا کے باعث دونوں ٹریک
پر ہزاروں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔
مظاہرے میں شریک ایک شخص نے ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے
ہوئے کہا کہ عدالت نے احکامات دیے ہیں کہ گنا کی قیمت 180 روپے من مقرر کی
جائے لیکن 19 شوگر ملوںکا مالک نہیں چاہتا کہ سندھ کا کاشتکار خوشحال ہو۔
مظاہرے میں شریک ایک اور شخص نے کہا کہ ڈی سی خیر پور اور ایس ایس پی نے
ہمارے ساتھ تحریری معاہدہ کیا تھا کہ گنے کے ریٹ 180 روپے ہونگے لیکن 40
روز گزرجانے کے باوجود ابھی تک اس معاہدے پر عمل نہیں ہوا۔