کراچی، سیاسی رہنماؤں کا حکومت سے پیٹرول کی قیمتیں واپس لینے کا مطالبہ
عوام کے بعد سیاسی رہنماؤں نے بھی پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کو مستردکر
دیا ہے،سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جب پیٹرول مہنگا ہوتاہے تو اوردوسری
چیزیں خود بخود مہنگی ہو جاتی ہیں،حکومت نے عوام کیلئے کچھ نہیں کیا ،صرف
اپنا پیسہ بنانے میں لگے ہوئے ہیں حکومت نے قرضے اتنے لے لئے ہیں کہ ان کے
پاس کوئی راستہ بچا اور اخراجات پورے کرنے کیلئے یہ عوام پر جتنی مصیبت
ڈالنا چاہیں گے ڈالیں گے عوام کوسمجھ لینا چاہئے کہ آزمائے ہوئے کو دوبارہ
نہ آزمایا جائے
اس سلسلے میں پی ٹی آئی رہنما ثمر علی خان نے کہا کہ حکومت نے عوام کیلئے
کچھ نہیں کیا ، صرف اپنا پیسہ بنانے میں لگے ہوئے ہیں،پی ٹی آئی رہنما نے
کہا کہ حکومت کو یہ احساس نہیں ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کرنے سے
آٹا، تیل ،دود ھ وغیرہ ہر چیز پر اثر پڑ تا ہے اور مہنگائی میں اضافہ
ہوجاتا ہے،ثمر علی خان کامزید کہنا تھا کہ انکی نا اہلی اتنی ہے کہ ملک کی
معیشت تباہ ہو گئی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے پر پی ٹی آئی رہنما سیما ضیا ءِ کا کہنا تھا کہ
کراچی میں ویسے بھی لوگوں کے ذریعہ آمدنی بہت کم ہے ، ہر چیزمیں کرپشن
ہورہی ہے میرٹ کا نظام ختم ہوتا جارہا ہے اور تعلیم کا نظام بھی ٹھیک نہیں
ہے ، اس میں اگر فیول پرائز مہنگی ہوگی تو ہر چیز مہنگی ہوگی سیما ضیا ءِ
نے کہا کہ حکومت کو پاکستان کی ایکسپور ٹ بڑھانی چاہئے اور امپورٹ کر کرنی
چاہیے ۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت پیٹرول کی قیمتوں پر نظر ثانی کرے تاکہ پاکستان کی غریب عوام کیلئے بہتری آئے۔
اس موقع پر پی ٹی آئی رہنماخرم شیرزمان کا کہنا تھا کہ حکومت نے قرضے اتنے
لے لئے ہیں کہ ان کے پاس کوئی راستہ بچا اور اخراجات پورے کرنے کیلئے یہ
عوام پر جتنی مصیبت ڈالنا چاہیں گے ڈالیں گے، عوام کوسمجھ لینا چاہئے کہ
آزمائے ہوئے کو دوبارہ نہ آزمایا جائے۔