اسلام آباد ، سابق وزیر اعظم نواز شریف کے 3 نیب ریفرنسز کی سماعت 9 جنوری تک ملتوی
اسلام آباد کی احتساب عدالت میں نواز شریف ، ان کی بیٹی مریم نواز اور
داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے خلاف تین نیب ریفرنسز کی سماعت 9 جنوری
تک ملتوی کردی گئی۔ دو گواہوں کے بیانات قلمبند ، مزید 6گواہوں کوطلبی کے
نوٹسز جاریکر دیئے گئے۔
نواز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر لیگی کارکنان اور رہنما
جوڈیشل کمپلیکس کے باہر موجود تھے۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد
بشیر کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے موقع پر استغاثہ کے گواہ محمد تسلیم نے بیان قلمبند کراتے ہوئے
کہا کہ ان لینڈ ریونیو کی عہدیدار فضا بتول کے حکم پر نیب آفس گیا جہاں
نواز شریف، حسن اور حسین نواز کا ویلتھ ٹیکس ریکارڈ فراہم کیا جب کہ فضا
بتول کا تصدیق شدہ ریکارڈ بھی جمع کرایا۔
گواہ محمد تسلیم نے بتایا کہ 21 اگست کو نیب میں ان لینڈ ریونیو کے نمائندہ
جہانگیر احمد بھی موجود تھے جنہوں نے تفتیشی افسر کامران محبوب کو نواز،
حسن اور حسین کا انکم ٹیکس ریکارڈ فراہم کیا جب کہ ریکارڈ وصول کرنے کے بعد
بیان بھی قلم بند کرایا۔
استغاثہ کے گواہ کمشنر ان لینڈ ریونیو محمد تسلیم نے اپنا بیان قلمبند کرانے کے بعد جاتے ہوئے نواز شریف سے ہاتھ ملا کر گئے۔
سابق وزیراعظم نوازشریف کااحتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو
کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عمران خان نے اعتراف جرم کیا اور عدالتی بینچ نے
انہیں صادق و امین بنا دیا، جبکہ میرے خلاف کرپشن کے ثبوت اب تک نہیں ملے۔
جرم ملا نہ ثابت ہوا اور اقامے پر سابق وزیراعظم کو فارغ کر دیا گیا۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات قیام پاکستان
سے قائم ہیں، ان کا دورہ سعودی عرب کوئی عجوبہ نہیں۔ ایسی باتیں کرنے والوں
نے دونوں ملکوں کے تعلقات پر ظلم کیا ہے۔ سعودی عرب جانےپرقیاس آرائیاں
کرنے والوں کا رویہ غیر ذمے دارانہ ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ 'مجھے تو اقامے کی بات کرکے فارغ کیا گیا، اس کے
مقابلے میں عمران خان نے ایمنسٹی اسکیم کا استعمال کیا اور اپنی آمدنی، جو
انہوں نے پتہ نہیں کہاں سے حاصل کی تھی، کی معافی مانگی۔ نواز شریف کا
کہنا تھا کہ نیب ریفرنس سےمتعلق روز یہاں پر آنا جانا، اس کی کیا وجہ ہے۔
سابق وزیراعظم نے پی ٹی آئی چیئرمین کو مخاطب کرکے کہا، 'عمران خان صاحب
آپ اقبال جرم کر بیٹھے ہیں، یہ ریکارڈ کی بات ہے، ایک تاریخ رقم ہوچکی ہے۔
آپ نے اقبال جرم کیا اور پھر عام معافی مانگی، آپ نے کہا کہ مجھ سے جرم
ہوگیا ہے، لہذا مجھے معاف کردیں، اگر آپ نے کوئی جرم نہیں کیا تھا، کوئی
غلط کام نہیں کیا تھا، کوئی چوری نہیں کی تھی تو آپ نے معافی کیوں مانگی؟
ایمنسٹی کے لیے کیوں اپلائی کیا؟ اور اس پر ہمارا بینچ انہیں صادق اور امین
ڈکلیئر کر رہا ہے۔
نواز شریف نے بتایا کہ 'عمران خان نے لاکھوں پاؤنڈز جو کروڑوں روپے بنتے
ہیں،کی ٹرانزیکشن کا اعتراف کیا ہے، نیازی سروسز جو کچھ کرتی رہی، اس کا
اعتراف کیا ہے لیکن عدالت نے کہا کہ عمران صاحب ہم آپ کو بے گناہ سمجھتے
ہیں۔