پشاور،چترال کی عوام کا آئندہ عام انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ
پشاور میں چترال کے شہریوں نے حکومت اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے
کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے نئی مردم شماری کے نتائج کو مسترد کر دیا
ہے ۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے
اور صوبائی اسمبلی میں دو نشستوں کو کم کرکے ایک کرنے کے فیصلے کونامنظور
کر تے ہیں۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر چترال میں کی گئی
مردم شماری حقائق کے بر عکس ہے جسے اہلیان چترال مسترد کرتے ہیں ، حکومت
اور الیکشن کمیشن کے خلاف نعرے درج تھے ، مظاہرے کے شرکا نے مردم شماری کو
مسترد کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ضلع چترال کی نشست کو کم
کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے،مظاہرین نے حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف
نعرے بازی بھی کی ۔
احتجاجی مظاہرے کے شرکاءِ کا کہنا تھا کہ اگر صوبائی160 اسمبلی میں چترال
کی دو نشستوں کو برقرار نہ رکھا گیاتو وہ 2018 کے عام انتخابات سے بائیکاٹ
کرکے گھر گھر مہم چلائیں گے۔
اس سلسلے میں ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مظاہرے میں
شریک شخص صادق امن نے کہاکہ صوبائی اسمبلی کی سیٹ جو مردم شماری کے باعث
ختم کی جا رہی ہے حکومت اسے بحال کرے اگر یہ بحال نہیں ہوئی تو ہم نے فیصلہ
کیا ہے کہ 2018 کے انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے۔،