کراچی،ہندوستان ہم پر مسلط ہونے کی کوشش کر رہا ہے لیکن کچھ نہیں بگاڑ سکتا،پرویز مشرف
سابق آرمی چیف اور سربراہ آل پاکستان مسلم لیگ پرویزمشرف کا کہنا ہے کہ
ہندوستان پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہا ہے لیکن وہ سمجھ لے کہ ہماری فوج
اور دفا ع بہت مضبوط ہے۔ پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے۔ ملک کی سیاست
میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔
لیاقت آباد می جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پرویز مشرف نے کہا کہ اے پی ایم ایل
ہم خیال لوگوں کے ساتھ مل کر نیا اتحاد بنا رہے ہیں، عوام ہمارا ساتھ دیں۔
ہم حکومت میں آ کر ان کے مسائل حل کریں گے، ایم کیو ایم کا نام ایک دھبہ
ہے، پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم اور اے این پی نے اسلحہ دے کر کراچی کے
لوگوں کو لڑوایا۔ ہمیں ان سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا، عوام سے کہتا ہوں کہ
قومیتوں کی سیاست چھوڑ کر پاکستانیت کی سیاست کریں۔ ہم آئندہ انتخابات میں
بھرپور کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
سابق صدر نے کہاکراچی پاکستان ہے، لوگ قومیتوں کو چھوڑ کر پاکستان آئیں، اس
شہر میں سندھی ، مہاجر پٹھان ، بنگالی ، پنجابی ، بلوچی سمیت تمام قومیتیں
رہتی ہیں۔ یہاں سارے لوگ آباد ہیں، کراچی کے لوگوں کو استعمال کیا گیا،
کراچی میں لاشیں ملتی تھیں، کچھ سیاسی قوتیں دباؤ کے ذریعہ عوام کو لڑواتی
رہیں۔ ہمیں ان سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا، انہوں نے کہا کہ مجھے کچھ نہیں
چاہئے، میں صدر ، آرمی چیف ، وزیر اعظم رہ چکا ہوں، میں مڈل کلاس طبقے سے
تعلق رکھتا ہوں، میں پاکستان کی ترقی کا سوچتا ہوں، کراچی میں لاشوں کی
سیاست ہوتی تھی، کراچی میں خاندان کے خاندان تباہ ہو گئے، میں بھی مہاجر
ہوں لیکن میں اپنے آپ کو مہاجر نہیں سمجھتا، میں سب سے پہلے پاکستانی ہوں،
میں ایم کیو ایم یا مہاجر نہیں ہوں، ایم کیو ایم کا نام ایک دھبہ ہے، مہاجر
ایک پڑھی لکھی قوم ہے، ایم کیو ایم نے مہاجروں کو تباہ کر دیا، اے این پی
نے کٹی پہاڑی میں پٹھانوں کو اسلحہ دیا، ایم کیو ایم نے مہاجروں کو اسلحہ
دیا، پیپلز پارٹی نے لوگوں کو اسلحہ دیا۔ لوگوں کو ایک دوسرے سے لڑوایا،
ہمیں اس سیاست سے چھٹکارا حاصل کرنا پڑے گا۔
پرویز مشرف نے کہا کہ آج کے لیڈر دریا کے بہاؤ میں بہہ کر سیاست کرتے ہیں،
لیڈر وہ ہوتا ہے جو دریا کے بہاؤ کو دیکھ کر ملک کے مفاد میں سیاست کرتا
ہے۔ ہمیں قومی سوچ اپنانا ہو گی اور ملک کو ترقی کی جانب گامزن کرنا ہو گا،
کراچی کے لوگ باشعور ہیں، وہ میرا ساتھ دیں، ہم کراچی میں بھرپور سیاست کر
رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم پورے کراچی میں ایک ہیں، میں ایم کیو ایم یا
پی ایس پی کی طرف جھکوں، ہم ایک ہیں، ہم سب ملیں گے تو یکجہتی ہو گی اور
ایک بھرپور طاقت بن کر ابھریں گے اور الیکشن جیتیں گے، پیپلز پارٹی کا اس
وقت سندھ میں مقابلہ کرنے کے لیے کوئی نہیں ہے، ہم سیاسی لوگوں کو ملائیں
گے۔ پیپلز پارٹی کا مقابلہ کریں گے،اب جو اتحاد بنے گا اس کو نیا نام دیا
جائے گا، اور ہماری کوشش ہو گی کہ ہم حکومت بنائیں، ہم کراچی سمیت ملک بھر
کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے، ہم تعلیم صحت ، امن و امان ، اور
دیگر مسائل کو حل کریں گے۔
سابق آرمی چیف نے کہا کہ اگر ہم حکومت نہیں بنا سکے تو ہم کچھ نہیں کر سکیں
گے۔ اس لیے میں عوام کو کہتا ہوں کہ وہ ہمارے ساتھ چلیں گے تاکہ ہم حکومت
بنا کر عوام کے مسائل حل کر سکیں،کراچی سندھ کا حصہ ہے، کراچی سندھ ہے،کوئی
بھی سمجھتا ہے کراچی سندھ نہیں ہے وہ غلط سمجھتا ہے،کراچی ہمیشہ سندھ کا
حصہ رہے گا، سندھ کے دیہی علاقے اور شہری علاقے ایک ہونے چاہئیں، لوگ ایک
ہو کر ہمیں جتوائیں،ایم کیو ایم اور مہاجر کے کوزے میں عوام تیس سال سے بند
ہیں ، اس سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اس سے صرف بتاہی ہوئی ہے۔ میرے ساتھ چلو
میں اسے ختم کراؤں گا اور آپ نے جو نام پایا ، وہ نام را کا ایجنٹ ، ٹارگٹ
کلر ، بھتہ خور اور دہشت گرد ہو، کسی کے ماتھے پر نہیں لکھا کہ وہ شریف
آدمی ہے، ان دھبوں سے میں آپ کو باہر نکالوں، انہوں نے کہا کہ آپ سب سے
پہلے پاکستانی ہیں۔ ہماری پوری سیاست قومیت کی ہے، تمام لوگ قومیت میں بٹھے
ہوئے ہیں۔
پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ قائد اعظم نے کہا تھا کہ ہم قومیتوں میں بٹھے
رہے تو ہم زندہ نہیں رہیں گے، پیپلز پارٹی سندھ ، مسلم لیگ (ن) پنجاب ، اے
این پی پٹھان ، ہمیں قومیتوں کی سیاست کو ختم کرنا ہے، پہلے پاکستانی ہیں
پھر سندھ کے ہیں اور پھر کراچی کے ہیں، میرے زمانے میں تو کوئی سندھ اور
کوئی مہاجر نہیں تھا سب بھائی تھے، ہم پر ہندوستان مسلط ہونے کی کوشش کر
رہا ہے،وہ ہمیں تباہ نہیں کر سکتا، ہماری فوج اور دفاع مضبوط ہے، یہ کہتے
ہوئے مجھے برا لگتا ہے کہ ہمارا مستقبل اچھا نہیں ہے۔ یہ سارا سلسلہ کراچی
اور سندھ میں ختم نہٰں ہوتا۔ اب کراچی اور سندھ میں کامیاب ہوں گے تو پیپلز
پارٹی کو ٹکر دیں گے اور حکومت بنائیں گے، ہمیں پورے پاکستان سے قومیتیں
ختم کرنی ہیں اور پاکستانیت کو پھیلانا ہے،ہم پاکستانیت کے پیغام کو پورے
ملک میں پھیلائیں گے۔ عوام ساتھ ہو گی تو سارے کام ہو جائیں گے،پاکستانیت
کا پیغام پھیلائیں تو سارے کام ہو جائیں گے، اگر عوام میرے ساتھ ہوں گے تو
میں سارے کام کر سکتا ہوں،ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم پاکستان کو ترقی دیں اور
پاکستان کے عوام کو خوش حالی دیں، ان کو نوکریاں ملیں ، ان کے روزگار میں
اضافہ ہو،مہنگائی میں کمی ہو تاکہ غریب عوام زندہ تو رہ سکیں اور یہی میرا
مقصد ہے اور ہم اس میں کامیاب ہو ں گے، میری بدقسمتی سے کہ مجھے جانا پڑا،
میں نے اس وقت کہا تھا کہ پاکستان کا اللہ ہی حافظ ہے، پاکستان کبھی ختم
نہیں ہو سکتا، اس کی حفاظت کریں گے۔