کوئٹہ، وزیراعلیٰ کا استعفیٰ نہ کسی کی فتح ہے اور نہ کسی کی شکست ہے یہ
آئین اور جمہوریت کی فتح ہے،قائد حزب اختلاف بلوچستان اسمبلی
بلوچستان اسمبلی میں قائد حذب اختلاف مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ تحریک
عدم اعتماد پیش ہونے سے قبل وزیراعلیٰ بلوچستان کا استعفیٰ دینا جمہوریت کی
فتح ہے وزیراعلیٰ نے استعفیٰ د یکر اچھی روایت قائم کی ہے یہ بڑے لوگوں کے
بڑے فیصلوں میں شمار ہوگا نئے قائد ایوان کا فیصلہ ساتھیوں کی باہمی
مشاورت سے کرینگے۔
بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے بعد مشترکہ کانفرنس کرتے ہوئے کہی مولانا
عبدالواسع نے کہا کہ آج جمہوری عمل خوش اسلوبی سے پایہ تکمیل تک پہنچاہے جس
سے مسلم لیگ(ن) ،مسلم لیگ(ق) ،بلوچستان نیشنل پارٹی، بی این پی (عوامی)
،عوامی نیشنل پارٹی اور مجلس وحدت المسلمین کے ارکان کے شکر گزار ہیں کہ
انہوں نے ہمارا بھر پور ساتھ دیا انہوں نے کہا کہ اب صوبے میں جمہوری سسٹم
چل پڑا ہے پرامن انتقال اقتدار صرف جمہوریت سے ممکن ہے آج جمہوریت مضبوط
ہوئی ہے اگر سلسلہ ایسے ہی جاری رہا تو غیر جمہوری قوتوں کی سرکوبی ہوگی۔
قائد حذن اختلاف نے کہا کہ نواب ثناء اللہ زہری نے صوبے کی عوام اور سیاسی
جماعتوں پر احسان کیا ہے اگر ووٹنگ ہوتی تو انکی اتحادی جماعتوں کو بھی
مشکل ہوتی کیونکہ انکے بھی ارکان اسمبلی منحرف ہوتے میں یہ کہوں گا کہ نواب
ثناء اللہ زہری نے بڑے ہوتے ہوئے بڑا فیصلہ کیا ہے انہوں نے اپنے ساتھ
ساتھ دوسروں کا بھی خیال رکھا کچھ نادان لوگوں کا خیال تھا اور وہ نواب
ثناء اللہ زہری کے کان بھی بھرتے تھے کہ آپ استعفیٰ نہ دیں آخر تک ڈٹے رہیں
ایسے لوگوں کی وجہ سے معاملات مزیدخراب ہوتے۔
مولانا عبدالواسع کا کہنا تھاکہ اگلی حکومت بے شک پانچ ماہ کی ہوگی مگر اس
میں اچھی حکمرانی کرنے کی ضرورت ہے اگر ایسا نہیں کیا گیا تو عوام میں
ہماری ساکھ خراب ہوجائے گی وزیراعلیٰ کا استعفیٰ نہ کسی کی فتح ہے اور نہ
کسی کی شکست ہے یہ آئین اور جمہوریت کی فتح ہے۔
سردار اختر جان مینگل ،میر عبدالقد وس بزنجو ، انجینئر زمرک خان اچکزئی
،سردارعبدالرحمن کھیتران ، سردار صالح بھوتانی نے تمام جماعتوں کا شکریہ
ادا کیا کہ جنہوں نے اس جمہوری اقدام میں انکا ساتھ دیا۔
اس موقع پر اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع کے ہمراہ سابق وزیراعلیٰ
بلوچستان سرداراختر جان مینگل ،ارکان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو ،زمرک خان
اچکزئی ،سردار عبدالرحمن کھیتران ،سردار صالح محمد بھوتانی بھی موجود تھے۔