Jan 12, 2018 01:18 pm
views : 596
Location : Ministry of Foreign Affairs
Islamabad- Weekly Foreign Office Briefing
اسلام آباد، کوئٹہ دہشتگرد حملے اور قصور میں بچی پر حملے کی مذمت کرتے ہیں،ترجمان دفتر خارجہ
ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں دہشت گردی کا
حملے افغانستان سے ہو ااور افغان حکومت کو ایسے حملوں کو روکنا ہو گا،کوئٹہ
دھماکوں میں افغان سرزمین کے استعمال کا معاملہ افغان حکومت کے ساتھ
اٹھایا جائے گا، پاکستان میں طالبان رہنماؤں کی موجودگی کے حوالے سے
الزامات کو مسترد کرتے ہیں، کسی دہشت گرد قیادت کی پاکستان میں موجودگی کی
اطلاعات کی تردید کرتے ہیں،اگر ایسی کوئی معلومات ہیں تو فراہم کی جائیں،
پاکستان کاروائی کرے گا،افغانستان میں موجود دہشتگردوں کے خلاف افغان فورسز
کاروائی کریں۔
دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹڑ فیصل کا کہناتھا کہ
پاکستان خطے کے حوالے سے امریکی اور مغربی پالیسیوں کا خمیازہ بھگت رہا ہے
تاہم پاکستان بات چیت سے تمام مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے،امریکہ اور
پاکستان کے درمیان مختلف سطح پر اور معاملات پر بات چیت جاری ہے، امریکی
صدر کے اشتعال انگیز بیانات کو مسترد کرتے ہیں، پاکستان نے دہشتگردوں کے
خلاف بلا امتیاز کاروائیاں کی ہیں، پاکستان میں داعش کی موجودگی کی تردید
کرتے ہیں،یکطرفہ کاروائی کے بیانات جھنجھلا ہٹ کا ثبوت ہیں، بھارت کے ساتھ
سیاچن اور سرکریک سمیت مسائل پر بات چیت کے لئے تیا ر ہیں مگر وہ تیار نہیں
ہے، پاکستان افغان مہاجرین کی باعزت اور مکمل واپسی چاہتا ہے۔
ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ بھارت نے ابھی تک جنگ بندی معاہدے کی 1970 خلاف
ورزیاں کی ہیں،غیر ملکی سفیروں کو انسداد دہشت گردی میں پاکستان کی کاوشوں
پر تفصیلی بریفنگ دی گئی،بھارتی سیکیورٹی فورسز نے تین مزید کشمیریوں کو
شہید کر دیا،6 جنوری کو کشمیری یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں،مقبوضہ کشمیر
میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کے لئے
کولالمپور میں نمائش و سیمینارکا انعقاد کیا گیا،ہم کسی دہشت گرد قیادت کی
پاکستان میں موجودگی کی اطلاعات کی تردید کرتے ہیں،اگر ایسی کوئی معلومات
ہیں تو فراہم کی جائیں، پاکستان کاروائی کرے گا، پاکستان میں طالبان
رہنماؤں کی موجودگی کے کرزئی کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں، را اور این ڈی
ایس کے نیٹ ورک پر آگاہ ہیں، افغانستان میں ہاٹ پرسو کی کوئی خواہش نہیں۔
ڈٓکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ کوئٹہ دہشتگرد حملے اور قصور میں بچی پر حملے کی
مذمت کرتے ہیں، اقوام متحدہ میں بھارت کی جانب سے ہندی زبان کو رائج کرنے
کا معاملہ نیا نہیں، اقوام متحدہ میں 6 زبانیں سرکاری طور پر رائج
ہیں،امریکہ اور پاکستان کے درمیان مختلف سطح پر اور معاملات پر بات چیت
جاری ہے، پاکستان نے انٹیلیجنس شئیرنگ کے ذریعے امریکہ سے ملکر القاعدہ کا
خاتمہ کیا، امریکی صدر کے اشتعال انگیز بیانات کو مسترد کرتے ہیں، پاکستان
نے دہشتگردوں کے خلاف کاروائیاں کی ہیں، یکطرفہ کاروائی جیسے بیانات
جھنجھلا ہٹ کا ثبوت ہیں،ہندوستان کے ساتھ تعلقات میں ہماری واضح پوزیشن ہے،
ہم سیاچن اور سرکریک سمیت عوامی رابطوں تجارت اور دہشتگردی پر بات چیت کے
لیے تیار ہیں مگر وہ تیار نہیں ہیں جب وہ تیار ہوں گے تو ہم بات کریں گے۔