قصور، گیارہ معصوم بچوں کے قاتل کو جلد گرفتار کرکے عبرت ناک سزا دی جائے، ریحام خان
قصور میں سات سالہ بچی زینب کے قتل کے خلاف ریحام خان نے کہا کہ قصور کا
شمار پاکستان کے دس بڑے اضلاع میں ہوتا ہے اس کی ترقی کیلئے عوام خود
جدوجہد کرے حکمرانوں کا آسرا نہ کرے کیونکہ اس سے پہلے بھی قصور میں ایسے
واقعات ہوچکے ہیں،اوراگر احتجاج کرو تو نہتے لوگوں پر گولیا ں چلائی جاتی
ہیں۔
قصور میں عمران خان کی سابقہ اہلیہ اور سماجی رہنما ریحام خان نے ذرائع
ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ پاکستان کے مختلف شہروں
میں ایسے واقعات ہورہے ہیں لیکن مجرمان کو یا تو سزا ہوتی ہی نہیں یا پھر
کم ہوتی ہے ایسے شیطانوں کو تو عبرت ناک سزا دینی چاہئے تاکہ ایسے درندہ
صفت ہمارے بچوں پر آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں۔
ریحام خان نے کہاکہ قصور میں پنجاب کے بجٹ سے چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کھولے
جانے چاہئے جن کے تحت سرکاری سطح پر بچوں ، والدین اور اساتزہ میں بھی بچوں
کی حفاظت کیلئے آگاہی پروگرام منعقد کئے جائیں۔
سماجی رہنما نے مزید کہا کہ اٹھارہ سال کا پاکستانی شہری ایک ووٹر ہوتا ہے
سیاست دان اپنے ووٹر کواٹھارہ سال کی عمر تک پہنچے کیلئے ہی حفاظتی اقدامات
کر لیں اور اس سلسلے میں پولیس پر سے سیاسی دباؤ ختم کریں تاکہ وہ فوری
طور پر ایف آئی آر درج کر کے مجرم کی تلاش شروع کریں دیر ہونے کی صورت میں
مجرم مفرور ہو جاتا ہے ۔ریحا م خان نے کہا کہ زینب کی والدین اس بات سے
زیادہ پریشا ن ہیں کہ اب تک ان کی بچی کا قاتل پکڑا نہیں گیاہے۔