قصور،زینب کے قاتل کی گرفتاری کیلئے حکومت کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا، میڈیا کے ذریعے کچھ پتا چل جاتا ہے،والد زینب
قصور میں زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی سات سالہ زینب کے والد محمد امین
نے کہا ہے کہ زینب کے قاتل کی گرفتاری کیلئے حکومت کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملاہے صرف میڈیا کے ذریعے کچھ پتا چل جاتا ہےکیونکہ جے آئی ٹی والو ں نے اب بتایا ہے کہ ڈی این اے لئے جارہے ہیں
اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ابھی کام شروع کر رہے ہیں جبکہ پولیس ایسے لوگوں
کو پکڑ کر ان کے خلاف پرچہ کاٹنے کے بعد ان پر تشدد کر رہی ہے جن کا اس
معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے جس کے باعث کچھ نوجوانوں کوفریکچربھی ہو گیا
ہے اور ان کی مائیں ہمارے گھر آکر کہہ رہی ہیں کہ ہمارے بچوں کا کیا قصور
ہے جس پر میں ان افراد کو رہا کر وارہا ہوں ۔
قصور میں محمد امین نے ذرائع ابلا غ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے
کہا کہ میں نے وزیر اعلی پنجاب اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی ہے کہ برائے
مہربانی دیکھ بھال کر اصل مجرم ہی پکڑوائیں اور جن بے گناہ افراد پر پرچی
کاٹی گئی ہے ان کی پرچی خارج کر کے انہیں رہا کیا جائے۔
اس موقع پر محمد امیں نے کہا کہ اشتعال کی شروعات پولیس نے خود کی ہے
زینب کے قتل پر لوگوں نے جو احتجاج کیا ان پر پولیس نے گولیاں چلائیں جس
کے باعث لوگ اشتعال میں آگئے اور انہوں نے توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کیا ،
جس میں ہماری اپنی دو گاڑیا ں جل گئیں ہیں۔
والد نے مزید کہا کہ پاک
فوج کی طرف سے دو ٹیمیں ہم سے ملنے آئی تھیں جنہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ہم اپنا
کام کر رہے ہیں انشاءِ اللہ بہت جلد آپ کوزینب کے قاتل کی گرفتاری کی خبر
دینگے۔