Jan 16, 2018 07:43 pm
views : 573
Location : NAB Court
Islamabad- Former PM Nawaz Sharif Media Talk
اسلام آباد ، بلوچستان میں قوم کے ساتھ گھناؤنا مذاق کیا گیا، نواز شریف
سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت نےنیب ریفرنسز کی سماعت
23جنوری تک ملتوی کر دی۔ ایون فیلڈ ریفرنس میں استغاثہ کے تین گواہان
کوآئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔سابق وزیراعظم نواز شریف تیرہویں بار احتساب عدالت میں پیش ہوئے، ان کی
صاحبزادی مریم نواز اور کیپٹن رٹائرڈ صفدر بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت شروع ہوتے ہی فلیگ شپ ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ ایڈیشنل ڈائریکٹر
نیب ناصر جنجوعہ نے اپنا بیان قلمبند کرایا جن پر نواز شریف کے وکیل خواجہ
حارث نے جرح مکمل کی۔
فلیگ شپ ریفرنس میں سماعت کےدوران استغاثہ کے گواہ ناصر جنجوعہ اور عمر
دراز کے بیانات قلمبند کیے گئے، نیب پراسیکیوٹر نے وکیل خواجہ حارث پر گواہ
سے ایک ہی سوال باربار پوچھنے کااعتراض کیا۔
مسلم
لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جس کی ضمانت ضبط ہونی
تھی اسے وزیر اعلیٰ بناکر قوم کے ساتھ گھناؤنا مذاق کیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے نوازشریف نے
کہا کہ میرے خلاف مقدمات میں کچھ بھی نہیں ہے، مجھےسمجھ نہیں آرہا کہ میرے
خلاف کیس ہے کیا، اس کی نوعیت کے بارے میں میڈیا سب جانتا ہے۔
نواز شریف نے کہا
کہ انہیں حکومت کے خلاف تحریک کی سمجھ نہیں آرہی، حکومتی مدت پوری ہونے
میں چار، پانچ مہینے ہیں، مولانا صاحب خاص طور پر اس وقت کیوں کینیڈا سے
آئے ہیں، تحریک چلانے والے بتائیں اس وقت تحریک کا مقصد کیا ہے، اگر حکومت
کے خلاف تحریک کے مقصد کی طرف ذہن دوڑائیں گے تو کئی سوالات کے جواب مل
جائیں گے، کینیڈا سے تشریف لانے والے مولانا پانچ ماہ انتظارکر لیں فیصلہ
عوام کریں گے۔
بلوچستان میں سیاسی تبدیلیوں پرسابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بہت
سنجیدہ ہے، وہاں جو کچھ ہوا وہ قوم کےساتھ گھناؤنا مذاق تھا، عام انتخابات
میں صرف 500 ووٹ لینے والے کو وزیر اعلیٰ بنادیا گیا، جس کی خود ضمانت ضبط
ہونی تھی، اس کو وزیر اعلیٰ بنانا بہت زیادتی ہے، ہم جلد بلوچستان سے متعلق
اجلاس بلارہے ہیں، جس میں بلوچ قیادت کو مدعو کریں گے۔