div align="right">نقیب اللہ محسود کے قتل کے حوالے سے خیبر پختونخوا اسمبلی نے متفقہ طور پر
مذمتی قرار داد منظور کر لی ہے،کورم نشاندہی پر ہنگامہ آرائی کی وجہ سے
اسمبلی ایک بار پر مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتی رہی۔
خیبر پختونخوا اسمبلی اجلاس ڈپٹی سپیکر مہر تاج روغانی کی صدرات میں شروع ہوتے ہی ہنگامہ آرائی کی نظر ہو گیا۔
دوران اجلاس ضلع ہنگو کو گیس ریالٹی نہ ملنے پر جے یوآئی کے رکن اسمبلی
مفتی جانان نے جہاں اسمبلی فلور پر بیٹھ کر احتجاج کیا تو وہیں حکومتی
اراکین کی جانب سے کورم کی نشاندہی کرنے پر اپوزیشن اراکین بھی سراپا
احتجاج رہے۔
اجلاس کے دوران کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے میں قتل ہونیوالے نقیب اللہ
محسود کے حوالے سے متفقہ طور پر مذمتی قرار داد منظور کر لی گئی ۔
اجلاس میں ملک کے مختلف شہروں میں بچوں کیساتھ پیش آنے والے جنسی تشدد
کے واقعات میں ملوث مجرموں کو عبرتناک سزا دینے کے حوالے سے بھی قرار
داد منظور کر لی گئی،تاہم ہنگامہ آرائی کے باعث اجلاس زیادہ دیر تک جاری
نہ رہا سکااور 22 جنوری تک ملتوی کرنا پڑا۔
ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے رکن تحریک انصاف کے رکن
صوبائی اسمبلی شوکت خان کا کہنا تھا کہ جب بھی اجلاس بلاتے ہیں تو چند لوگ
اسے ذاتیات تک محدود کر دیتے ہیں جس کی عجہ سے بد مزگی ہوتی ہے۔
مسلم لیگ ن کی رکن صوبائی اسمبلی ثوبیہ خان کا کہنا تھا بلین ٹری منصوبے کے
درخت تو کہیں دکھائی نہیں دیتے لیکن چند مقامات پر چونا ہی دکھائی دیتے
ہیں۔