کراچی، اسکول وین ڈرائیور کی جانب سے اغوا اور زیادتی کا نشانہ بننے والی عائشہ کے اہلخانہ کا احتجاج
اسکول وین ڈرائیور کی جانب سے اغوا اور زیادتی کا نشانہ بننے والی عائشہ کے
اہلخانہ کی جانب سے کراچی کے علاقے دو تلوار پر احتجاجی مظاہرہ کیا
گیا،مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر عائشہ کو انصاف
دینے اورملزمان کی گرفتاری کے خلاف نعرے درج تھے۔
عائشہ کو پانچ دسمبر کو اس کے اسکول وین ڈرائیور عبدالقادر نے ٹیوشن سے
واپسی پر اغوا کر لیا اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا،8 دسمبر کو عائشہ
کے والد جمشید نے مدینہ کالونی تھانے میں اغوا کی ایف آئی آر کٹوائی جس
میں اسکول وین ڈرائیور عبدالقادر اور اس کے بہنوئی اسد کو نامزد کیا لیکن
پولیس نے کسی کو گرفتار نہیں کیا بلکہ اس منظم اور گھناؤنے جرم میں ملزمان
کا ساتھ دیا۔
ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ لڑکی عائشہ کا کہنا
تھا کہ مجھے 3 راتیں لاک اپ میں بند رکھا اور پریشر ڈالتے رہے کہ اگر کسی
کو کچھ بتایا تومیرے گھر والوں کو قتل کر دیں گے۔
متاثرہ لڑکی اور اسکے والدین نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، آرمی چیف, صدر
پاکستان، وزیر اعظم، وزیر اعلی سے انصاف اور تحفظ کی اپیل کی ہے جبکہ سٹی
کورٹ میں جو مافیا نابالغ لڑکیوں کی فری ول نکاح کروا رہے ہیں ان کیخلاف
سخت کارروائی کی بھی اپیل کی ہے۔