div align="right">چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ روز محشر سب سے پہلے قاضی اور منصف کو پکارا جائے گا۔
لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام سیمینار سے خطاب میں چیف جسٹس
ثاقب نثار نے بتایا کہ کل جسٹس عمر عطا بندیال نے مجھے ایک میسج کیا تھاجس
میں انہوں نے ایک غزل شیئر کی تھی اور شاید یہ غزل آج کی محفل کیلئے ہی
ہے، جسٹس عمر عطا بندیال زیادہ تر میسج میں مجھے بھائی جان ہی کہتے ہیں
لیکن کبھی کبھی آئی لو یو بھی لکھتے ہیں، جس پر سیمینار کے شرکا کھلکھلا کر
ہنس پڑے اور دیر تک تالیاں بجاتے رہے۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھاکہ جمہوریت کو پامال نہیں ہونے
دیں گے، ملک میں آئین اور قانونی کی حکمرانی رہے گی،بدقسمتی سے ملک کو بہت
سے مسائل کا سامنا ہے، مسائل سے نکلنے کے لیے مکمل ایمانداری سے کام
کرناہوگا، ایماندار لیڈر شپ ملے گی تو لوگوں کی قسمت بدل جائیگی۔
جسٹس ثاقب نثار نے لاہور میں سیمینار سے خطاب میں کہا کہ زندگی میں کبھی
لکھ کر تقریر نہیں کی، لوگوں کے کہنے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، انہوں نے
کہا کہ بار اور بینچ جسم کے دو حصے ہیں، بار اور بنچ میں سے کوئی بھی اپنے
پیشے کو خراب کرنا نہیں چاہتا، عدلیہ مکمل آزاد ہے آپ کو اس پر فخر ہونا
چاہیے، ریاست جیسے جیسے طاقتور ہورہی ہے شہریوں کے حقوق میں دخل اندازی
ہورہی ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے جس شعبے سے رزق وابستہ ہو اس
کیخلاف بات کی جائے، انصاف کرنا مولا کریم کی ایک صفت ہے، جو جج کو سونپ دی
گئی، کوئی شخص جج بن کر خود کو اعلیٰ سمجھتا ہے تو وہ غلطی پر ہے، اللہ نے
ا?پ کو جو انصاف کرنے کا اختیار دیا ہے اس سے بڑھ کر کوئی احسان نہیں
ہوسکتا۔
مظلوم لوگوں کی داد رسی جن لوگوں نے کرنی ہے وہ تو نہیں کررہے یہ کام آپ کو
کرنا ہے،ہم اکھٹے ہیں ہمیں کچھ نہیں ہوا ہم ہر اس چیلنج کے سامنے کھڑے
ہونگے،ہمیں جو چیلنجزدرپیش ہیں ان سے گھبرانا نہیں،سامنا کرنا ہے۔