ڈیرہ اسماعیل خان،سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے ایک اورمبینہ جعلی مقابلے کے متاثرین سامنے آگئے
کراچی میں ملیر میں مبینہ جعلی مقابلے میں سابقہ ایس ایس پی راؤ انوار کے
ہاتھوں نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد ماضی میں اسی قسم کے پولیس مقابلہ
کے شکار افراد کے لواحقین بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
ایسے ہی دعویداری ، ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقہ گْمل کلاں کے مکین حافظ سراج
نے کی ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ انکا داماد محمد رفیق بھی راو انوار کے
ہاتھوں اسی طرح کے جعلی پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا جسکا اعلان مورخہ
3مارچ2016کو شائع ہونے والی اس خبر میں کیا گیا تھا جس میں راؤ انوار نے
کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے چار افراد کو پولیس مقابلہ میں ہلاک
کرنے کا دعوی کیا تھا اور ان چار افراد میں سے ایک محمد رفیق بھی تھا جو کہ
کراچی کا پیدائشی اور محنت مزدوری کرکے گزر اوقات کیا کرتا تھا۔
محمد سراج کے مطابق، محمد رفیق گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں ڈیرہ اسماعیل
خان ہی کے علاقہ گمْل کلاں سے جنرل کونسلر کا الیکشن بھی لڑ چکا ہے،سرائیکی
زبان بولنے والا، کراچی میں رہائش پذیر محمد رفیق ، تین بیٹیوں کا باپ
تھا۔
ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے محمد سراج کا کہنا تھاکہ
دو ہزار پندرہ میں شادی کا کہہ کر رفیق کراچی گیا تھا پھر اچانک لا پتہ
ہوگیا تھا جبکہ ہمیں دو ہزار سولہ میں پتہ چلا کہ راؤ انوار نے انہیں
مقابلے میں مار دیا ہے۔
محمد رفیق کی بیوہ کا کہنا تھا کہ حکومت سے اپیل کرتی ہوں کہ ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔