کراچی،سندھ ریزرو پولیس کے برطرف اہلکاروں کا احتجاجی مظاہرہ
سندھ ریزرو پولیس کے برطرف اہلکاروں نے حکومت سندھ کی جانب سے برطرف کئے
جانے کے خلاف کراچی پریس کلب کے باہر شدید احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر انہیں بحال
کئے جانے کے نعرے اور مطالبات درج تھے جبکہ مظاہرین کی جانب سے نعرے بازی
بھی کی گئی ۔مظاہرے میں سکھر حیدر آباد اور سندھ کے دیگر اضلاع سے برطرف کے
جانیوالے اہلکار شامل ہیں ۔
مظاہرین کی جانب سے مطالبات پورے نہ ہونے کے نتیجے میںآگ لگا کر خود سوزی کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔
اس موقع پرسندھ ریزرو پولیس کےایک برطرف اہلکار نے ذرائع ابلاغ عامہ کے
نمائند ے سے گفتگو کرتےہوئے کہاکہ ہم نے 2012 سے 2015 تک ملازمت کی اس کے
بعد ہمیں بر طرف کر دیا گیاہم بلاول بھٹو زرداری سے اپیل کرتے ہیں کے ہمیں
اپنا حق دیا،سابق ملازم نے کہا کہ سی پیک کیلئے ملازمتیں آئی ہوئی ہیں جس
کیلئے ہمیں لیٹر بھی دیئے گئے ہیں ، لیکن ٹال مٹول سے کام لیا جارہا ہے ۔
ایک اور سابق ایس آر پی ملازم ، حفیظ اللہ احسن نے کہا کہ ہم 2012 میں
بھرتی ہوئے اسکے بعد ہم نے مختلف ٹریننگ سینٹرز میں ٹریننگ کی اور چار سال
مختلف تھانوں میں ملازمت بھی کی بعد میں آئی جی سندھ نے ہمیں غیر قانونی
ملازم قرار دے کر ملازمت سے برطرف کر دیا، سابق ملازم نے کہا کہ دوران
ملازمت ہمارے 14ساتھی شہید بھی ہوئے انکا خون کہا ں جائے گا،اب ہمیں کسی
پرائیوٹ ادارے میں بھی ملازمت نہیں ملتی۔
ایک اور ملازم محمد ہاشم ہم نے کہا کہ ہم نے پولیس ملازمت کے مختلف کورسز
اور ٹریننگ کئے ہوئے ہیں پھر بھی ہمیں بحال نہیں کیا جارہا ہے،ہم آئی جی
سندھ، وزیر اعلی سندھ اور چیف جسٹس صاحب سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں بحال
کیا جائے،ہم بے روز گار ہوگئے ہیں اورفاقا کشی کرنے پرمجبور ہیں ۔