اسلام آباد،چین نے قوم بننا سیکھ لیا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے ترقی کی ہے،چیف جسٹس
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ چین نے قوم بننا سیکھ لیا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے ترقی کی ہے۔
جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس
میاں ثاقب نثار نے اپنے دورہ چین کا احوال سنایاچیف جسٹس نے کہا کہ چین میں
ہونے والی کانفرنس میں کئی ملکوں کے چیف جسٹسز آئے ہوئے تھے لیکن چینی چیف
جسٹس صرف مجھے علیحدہ لے کر گئے اور تبادلہ خیال کیا، 146 اس ملاقات کے
دوران میں نے چینی ہم منصب سے کہا کہ آپ لوگوں نے کمال ترقی کی ہے، میں تو
آپ کی ترقی دیکھ کر حیران رہ گیا ہوں، آپ کی اس ترقی کا راز کیا ہے،جسٹس
ثاقب نثار نے بتایا کہ انہیں ان کے چینی ہم منصب نے بتایا کہ چین کی ترقی
کا راز قوم بننے میں ہے کیونکہ چینی لوگوں نے قوم بننا سیکھ لیا ہے اس لیے
وہ ترقی کر رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے مزید کہا بڑے بڑے کیسز سے نمٹنے کیلئے احتساب کورٹ بنا کر
دیئے، بڑی جدوجہد کے بعد ہم نے یہ ملک حاصل کیا، کیا ہم اپنی اس دھرتی ماں
کا حق ادا کر رہے ہیں؟،سی پیک کے بارے میں ایک میٹنگ کر رہے ہیں، چین گیا
وہاں ترقی دیکھ کر حیران رہ گیا، چینی ایک قوم ہیں، ہمیں بھی قوم بننا ہے،
ہمارے ہاں تو مالی بھی کام کے دوران فارغ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا
رزق اللہ نے دینا ہے، آپ دیانتداری سے کام کریں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم ایک سال اپنے ذاتی مفادات کو بھول کر ایک سال
تک اپنے ملک کے لئے کام کریں تو قوم کی تقدیر بدل جائیگی ہمیں اپنے ملک کو
آنے والی نسلوں کے لئے بہتر بنانا ہوگا، چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا ہے کہ
ملک میں گریٹ لیڈر اور گریٹ منصف آگئے تو ملکی ترقی کو کوئی نہیں روک سکے
گا، پاکستان میں حضرت عمرؓاور حضرت علیؓکی طرح کے لوگ چاہئیں، جب پاکستان
میں عمرِ ثانی اور علیِ ثانی آگئے ، تو ملکی ترقی کو کوئی نہیں روک سکے گا،
پھر ہماری ترقی کی پرواز پوری دنیا دیکھے گی۔
چیف جسٹس نے مزید کہاکہ ججز کو چیلنجز درپیش ہیں، مسائل کو راہ میں حائل
نہیں ہونے دینا، سخت محنت کے ساتھ کام کرنے والے ججز کو بھی دیکھا ہے۔ چیف
جسٹس نے کہا عدلیہ نے کارکردگی نہ دکھائی تو ریاست لڑ کھڑا جائے گی، آپ
زیادہ اہمیت کے ججز ہو کیونکہ آپکو اسپیشل ٹاسک دیا گیا ہے، میں کبھی تکبر
نہیں کرتا، مجھے فخر ہے میں پاکستانی شہری ہوں،چیف جسٹس میاں ثاقب نے کہا
ہائیکورٹ کے ایک جج کی اوسط تنخواہ 9 لاکھ روپے ہے، سپریم کورٹ کا جج اس سے
بھی زیادہ تنخواہ وصول کرتا ہے، معاشرے کو انصاف فراہم کرنا عدلیہ کی ذمہ
داری ہے، آئین کے تحت پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے، قوانین پارلیمنٹ بناتی ہے،
ججز کو اپنے رویے درست کرنا ہونگے، عام عدالت اور سپریم کورٹ کے جج میں فرق
نہیں کرتا۔