پشاور،صوبے کی پہلی ڈی این اے لیب قائم
خیبرپختونخوا حکومت کو بالاآخر ڈی این اے لیب بنانے کا خیال آہی گیا، پشاور میں صوبے کی تاریخ کی پہلی ڈی این اے لیب قائم کر دی گئی۔
مردان میں جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی عاصمہ تو چلی گئی لیکن خیبرپختونخوا حکومت کی آنکھیں کھول گئی،اب ڈی این اے ٹیسٹنگ کے لئے دوسرے صوبوں کو خون کے نمونے بھیجنے کی ضرورت نہیں پڑے گی،پشاور میں جدید طرز کی ڈی این اے لیب قائم کر دی گئی،ساڑھے چار کروڑ روپے کی لاگت سے بننے والی لیب میں 200 سے زائد ڈی این اے ٹیسٹس کیے جاسکتے ہیں ڈی این اے لیب کے قیام کے بعد اب ڈی این اے سمپلنگ، پروفائلنگ اور ٹیسٹنگ کے لئے دوسرے صوبوں سے رجوع کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
گزشتہ سال سال فارنزک لیب کو ڈی این اے مشین فراہم کی گئی تھی اب کٹس فراہم کرنے کے بعد ڈی این اے ٹیسٹ بھی ممکن ہیں۔
اسسٹنٹ پروفیسر فانزک لیب ڈاکٹر یوسف کا ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھاڈین این اے ٹیسٹنگ سے انسان کی شناخت کے بہت سے معاملات میں مدد ملے گی جیسا کہ انسان کے مرنے کے بعد اگر کوئی لاش ناقابل شناخت ہو تو اسکی شناخت کی جاسکے گی۔